دس ہفتوں کی ناکہ بندی کے بعد اسرائیل کا غزہ میں ’خوراک کی ضروری مقدار‘ کے داخلے کی اجازت کا اعلان

اہم خبریںدنیا

غزہ میں تقریباً 10 ہفتوں سے جاری مکمل ناکہ بندی کے بعد اسرائیل نے پہلی بار اعلان کیا ہے کہ وہ "خوراک کی ضروری مقدار” غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دے گا، تاکہ قحط جیسے ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔

یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی افواج نے غزہ میں "وسیع پیمانے پر زمینی آپریشن” کا آغاز کیا ہے اور عالمی سطح پر اسرائیل پر انسانی بنیادوں پر امداد بحال کرنے کے لیے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ اسرائیلی ڈیفنس فورسز (IDF) کی سفارش پر کیا گیا ہے تاکہ فوجی آپریشن کے دوران انسانی بحران کو کنٹرول کیا جا سکے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسی صورت حال، جہاں غزہ کے شہریوں کو بھوک یا قحط کا سامنا ہو، اسرائیلی فوجی آپریشن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

نتن یاہو کے دفتر نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل "غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل پر کنٹرول حاصل کرنے کی حماس کی کوششوں کو ناکام بنانے” کے لیے بھی اقدامات کرے گا۔

غذائی قلت اور انسانی بحران کی شدت

امدادی ایجنسیوں، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مسلسل خبردار کیا ہے کہ غزہ کی 21 لاکھ آبادی شدید غذائی قلت کا شکار ہے اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو علاقے میں قحط جیسا بحران جنم لے سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق غزہ میں ہزاروں بچے غذائی قلت، پانی کی کمی اور طبی سہولیات کے فقدان سے متاثر ہو رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی دلخراش ویڈیوز اور تصاویر میں غذائی قلت کا شکار بچے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ رہے ہیں۔

فرانس سمیت عالمی برادری کا دباؤ

فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نول بیروٹ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کے لیے "فوری، بڑے پیمانے پر اور بلا روک ٹوک” امداد کی اجازت دے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر امداد کی ترسیل کو کسی صورت روکا نہیں جانا چاہیے۔

بیروٹ کا کہنا تھا کہ "یہ صرف ایک انسانی فریضہ نہیں، بلکہ عالمی قانون کی بھی صریح خلاف ورزی ہے اگر عام شہریوں کو بھوک اور بیماری میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔”

اسرائیل کی "خوراک کی مقدار” کا مبہم معیار

اسرائیل کے اس اعلان کے باوجود کہ وہ "ضروری مقدار” میں خوراک کی اجازت دے گا، یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس مقدار کا تعین کون کرے گا اور کیا یہ مقدار اقوام متحدہ یا امدادی اداروں کے مطابق کافی ہو گی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ خوراک فوجی مقاصد کو مدِنظر رکھ کر محدود پیمانے پر فراہم کی جائے گی تو یہ اقدام انسانی بحران کو محض وقتی طور پر کم کرے گا، مکمل حل نہیں ہوگا۔

حماس اور امداد کی تقسیم کا سوال

اسرائیلی حکومت نے ایک بار پھر الزام لگایا ہے کہ حماس امدادی سامان کو اپنے کنٹرول میں لینے کی کوشش کرتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسرائیل امداد کی تقسیم پر مکمل نگرانی چاہتا ہے۔

تاہم، اقوام متحدہ سمیت کئی غیر جانب دار ادارے کہتے ہیں کہ انسانی امداد کو اس طرح سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔