چاول کے دانے جتنا روبوٹ جو دماغی سرجری کا منظر بدل دے گا
فرانس کی ایک جدید اسٹارٹ اپ کمپنی Robeauté نے طب کی دنیا میں ایک حیرت انگیز قدم اٹھایا ہے۔ کمپنی نے چاول کے دانے جتنا چھوٹا ایک مائیکرو روبوٹ تیار کیا ہے، جو دماغی ٹیومر سے بایوپسی لینے کے عمل کو پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ اور مؤثر بنا دے گا۔
اس انقلابی منصوبے کے لیے کمپنی نے 27 ملین یورو (تقریباً 29 ملین امریکی ڈالر) کی خطیر سرمایہ کاری حاصل کی ہے، اور اس روبوٹ کے کلینیکل ٹرائلز 2026 میں شروع ہوں گے۔
یہ روبوٹ عام سرجیکل ٹولز، جیسے نیڈل یا سیدھی لائن میں کام کرنے والے آلات سے یکسر مختلف ہے۔ یہ سافٹ روبوٹ دماغ کے نازک اور پیچیدہ حصوں کے درمیان سے گھومتے ہوئے اس طرح آگے بڑھتا ہے کہ اہم دماغی افعال کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
یہ روبوٹ ایک چھوٹے سے سوراخ کے ذریعے کھوپڑی میں داخل ہوتا ہے اور صرف 3 ملی میٹر فی منٹ کی رفتار سے حرکت کرتا ہے۔ اس کی حرکت ممکن ہوتی ہے چھوٹے چھوٹے گھومنے والے سلیکون رنگز کی مدد سے، جو نرمی سے دماغی ٹشوز کو علیحدہ کرتے ہیں۔
اسے مصنوعی ذہانت (AI) اور ایم آر آئی پر مبنی میپنگ کے ذریعے گائیڈ کیا جاتا ہے، تاکہ یہ حساس دماغی حصوں سے بچتے ہوئے مطلوبہ مقام تک پہنچے۔ اس کی پوزیشن کو الٹراساؤنڈ کے ذریعے حقیقی وقت میں ٹریک کیا جا سکتا ہے، جس سے سرجن سب ملی میٹر کی سطح پر کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔
روبوٹ کے اندر موجود ایک انتہائی باریک سرجیکل ٹول، دماغی ٹیومر سے نمونے (ٹشوز) جمع کرتا ہے، جنہیں یا تو روبوٹ کے اندر محفوظ کیا جاتا ہے یا کیبل کے ذریعے باہر نکالا جاتا ہے۔
Robeauté کا منصوبہ ہے کہ یہ ٹیکنالوجی 2030 تک امریکہ اور دنیا بھر میں متعارف کروائی جائے، جس کے لیے کمپنی FDA کی منظوری کی منتظر ہے۔
اگر کامیابی سے نافذ کیا گیا تو یہ چھوٹا سا روبوٹ دماغی سرجری کا پورا طریقہ بدل سکتا ہے — جہاں کم سے کم خطرے کے ساتھ زیادہ درست اور محفوظ علاج ممکن ہو جائے گا۔
