وزیر خزانہ کی آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف، بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی نوید
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے ریلیف دیا جائے گا، جب کہ جولائی یا اس سے قبل بجلی کے بلوں میں بھی نمایاں کمی کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدامات پر کام جاری ہے اور اس حوالے سے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مشاورت بھی جاری ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کا مقصد بجٹ سازی کے عمل کو شفاف اور جامع بنانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے مکمل پروگرام ترتیب دے دیا گیا ہے، تاہم اس کی تفصیلات آئی ایم ایف سے منظوری کے بعد ہی عوام سے شیئر کی جائیں گی۔
بجلی کے نرخوں میں کمی پر کام جاری
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں میں اضافے نے عوام پر بوجھ بڑھایا ہے، جسے کم کرنے کے لیے حکومت جولائی یا اس سے پہلے ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ "ہم آئی ایم ایف کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں تاکہ اس ریلیف کو عملی شکل دی جا سکے،” انہوں نے کہا۔
امریکہ سے تجارتی تعلقات کی بحالی کی جانب قدم
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ پاکستان، امریکا کے ساتھ تعمیری تجارتی مذاکرات کا آغاز کرنے جا رہا ہے۔ "امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ایک اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد امریکا روانہ ہوگا جہاں مثبت پیش رفت کی امید ہے،” انہوں نے کہا۔
بجٹ سازی میں نجی شعبے کی شمولیت
انہوں نے انکشاف کیا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے لیے حکومت کو نجی اور سرکاری شعبے سے 98 فیصد تجاویز موصول ہو چکی ہیں۔ حکومت ان تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے اور عمل درآمد سے قبل متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو آگاہ کیا جائے گا۔ "جو تجاویز قابل عمل نہیں ہوں گی، ان کی وجوہات بھی بتائی جائیں گی،” وزیر خزانہ نے کہا۔
یکم جولائی سے بجٹ نافذ، بعد میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ یکم جولائی 2025 سے نافذ العمل ہوگا، اور اس کے بعد اس میں کوئی ترمیم نہیں کی جائے گی۔ "اس فیصلے کا مقصد بجٹ پر بروقت اور موثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے،” ان کا کہنا تھا۔
آئی ایم ایف کے اہداف مکمل، معاہدے کی امید
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر عملدرآمد کر لیا ہے اور امید ہے کہ مئی میں آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اسٹاف لیول معاہدے کی منظوری دے دے گا، جس سے پاکستان کے لیے اگلا پروگرام بھی آسان ہوگا۔
ٹیکس اصلاحات پر پیش رفت
محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ تاجروں سے ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ "تاجر دوست اسکیم” کو ٹیکس وصولی سے جوڑنا مناسب نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موجودہ سال میں ٹیکس پالیسی کا شعبہ وزارت خزانہ کے ماتحت کام شروع کرے گا، اور ٹیکس دہندگان کے لیے ایک آسان اور جامع فارم متعارف کرایا جائے گا، جسے ہر فرد خود بھر سکے گا۔
