وزیراعظم کا بجلی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان، گھریلو صارفین کو بڑا ریلیف
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے آج گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیا۔ اس حکومتی پیکیج کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں وفاقی وزراء اور سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی ابتدا قرآن پاک کی تلاوت سے ہوئی، جس کے بعد نعت رسول مقبول ﷺ پیش کی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا، "آج اللہ کے فضل سے قوم کو خوشخبری سنانے آیا ہوں۔ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تھا تو پاکستان کو دیوالیہ کرنے کی باتیں ہو رہی تھیں، آئی ایم ایف بات سننے کو تیار نہیں تھا، توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا تھا اور پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے پر لے جانے والے خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے۔”
شہباز شریف نے مزید کہا کہ "اب معیشت ماضی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے اجالوں کی طرف آ چکی ہے اور اس کے لیے میں پوری قوم، کاروباری طبقے اور خاص طور پر عام آدمی کے صبر کی قدر کرتا ہوں۔”
معاشی استحکام کی جانب سفر
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پچھلے ایک سال میں پیٹرول کی قیمتوں میں 38 روپے فی لیٹر کی کمی آئی، اور آج پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں خطے میں سب سے کم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "شرح سود 22.5 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد پر آ چکی ہے، جس سے کاروبار میں جان آئی ہے اور مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈجیٹ میں آ چکی ہے۔”
وزیراعظم نے کہا کہ "جب تک بجلی کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی نہیں آئے گی، ملکی صنعت، تجارت اور زراعت ترقی نہیں کر سکتے۔”
یہ بھی پڑھیں: حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں کمی کی درخواست نیپرا میں جمع
بجلی کی قیمت میں کمی کی تفصیلات
شہباز شریف نے کہا کہ "جون 2024 میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 48 روپے 70 پیسے فی یونٹ تھی، جو اب 45 روپے 5 پیسے فی یونٹ ہو چکی ہے۔ آج گھریلو صارفین کے لیے مزید 7 روپے 41 پیسے فی یونٹ کمی کی جا رہی ہے، جس سے گھریلو صارفین کو 34 روپے فی یونٹ بجلی ملے گی۔”
وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتی صارفین کے لیے بھی بڑی خوشخبری سنائی۔ ان کا کہنا تھا کہ "جون 2024 میں صنعتی صارفین کے لیے بجلی کی قیمت 58 روپے 50 پیسے فی یونٹ تھی، جو بعد کے مہینوں میں اب تک 47 روپے 19 پیسے فی یونٹ ہو چکی ہے۔ آج اس میں مزید 7 روپے 59 پیسے فی یونٹ کمی کا اعلان کر رہا ہوں۔”
آئی پی پیز کے ساتھ معاہدہ اور گردشی قرضہ
وزیراعظم نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے آئی پی پیز (انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے ساتھ 3696 ارب روپے کے معاہدے کو ختم کر دیا ہے، جس سے ملک کو یہ رقم بچا کر، آئی پی پیز سے حاصل کیے گئے منافع کو قوم کے فائدے میں تبدیل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "ہم نے 2393 ارب روپے کے گردشی قرضے کا مستقل حل نکال لیا ہے، اور یہ قرضہ پانچ سال میں مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔”
سرکاری پاور پلانٹس کا مستقبل
وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ "سرکاری پاور پلانٹس جو سالوں سے بند پڑے تھے، ان کو فروخت کر دیا گیا ہے، جس سے 9 ارب روپے حاصل ہوئے، جبکہ ان پلانٹس پر سالانہ 7 ارب روپے خرچ ہو رہے تھے۔ آج وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم اس بوجھ کو ختم کریں۔”
