ٹرمپ کے نئے ٹیرفز کے اعلان کے بعد عالمی معیشت بحران کا شکار

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیاکاروبار

واشنگٹن/لندن/ٹوکیو – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرف کے اعلان کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی جا رہی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں بے یقینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال

امریکی مارکیٹ:

  • S&P 500 انڈیکس میں 3.9 فیصد کمی، جبکہ Nasdaq Composite 4.7 فیصد نیچے چلا گیا۔
  • ٹیکنالوجی جائنٹس جیسے ایپل، ٹیسلا اور ایمیزون کے شیئرز میں نمایاں گراوٹ، جس سے ٹیک سیکٹر کو بڑا نقصان پہنچا۔

ایشیا و یورپ:

  • جاپان کا Nikkei 225 انڈیکس 4.1 فیصد نیچے آگیا۔
  • ہانگ کانگ اور چین کی مارکیٹس میں بھی نمایاں کمی۔
  • لندن، پیرس اور فرینکفرٹ کی مارکیٹس میں 1 فیصد سے زائد گراوٹ دیکھی گئی۔

دیگر مالیاتی اثرات:

  • سونے کی قیمت بلند سطح کے قریب پہنچ گئی، کیونکہ سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کا رخ کر رہے ہیں۔
  • عالمی جی ڈی پی پر دباؤ کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی۔

ٹرمپ کے نئے ٹیرفز کے اعلان کے بعد عالمی معیشت بحران کا شکار

بحران کی وجوہات

  • ٹرمپ کے ٹیرفز: صدر ٹرمپ نے تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد اور چین پر 34 فیصد تک کا ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جس سے عالمی تجارت متاثر ہوئی۔
  • معاشی کساد بازاری کا خدشہ: ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرفز امریکی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتے ہیں، جس کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا۔
  • ٹیکنالوجی سیکٹر کی تباہی: بڑی کمپنیوں کے شیئرز گرنے سے مارکیٹ میں خوف کی فضا قائم ہو چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا جوابی ٹیرف: پاکستان پر 29 فیصد اضافی محصولات عائد

مستقبل کی پیشگوئی

  • اگر یہ رجحان برقرار رہا تو عالمی معیشت مزید دباؤ میں آ سکتی ہے۔
  • سرمایہ کار سونا اور حکومتی بانڈز خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
  • امریکی حکومت کے آئندہ اقدامات اس بحران کے اثرات کو کم یا مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر عالمی منڈی میں استحکام نہ آیا تو یہ بحران طویل المدتی معاشی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔