مستونگ: اختر مینگل کی قیادت میں بی این پی (مینگل) کا دھرنا جاری، خواتین کی رہائی کے لیے 2 روزہ الٹی میٹم
کوئٹہ: بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ اختر مینگل نے حکومت کو دو دن کی مہلت دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر گرفتار خواتین کو رہا نہ کیا گیا تو احتجاجی مارچ کوئٹہ کی طرف بڑھایا جائے گا۔
احتجاج کی صورتحال
مستونگ کے لک پاس پر بی این پی (مینگل) کا دھرنا پانچویں روز میں داخل ہو چکا ہے، جس کی قیادت اختر مینگل کر رہے ہیں۔
اختر مینگل کا سخت موقف
دھرنے سے خطاب میں اختر مینگل نے کہا کہ ماورائے آئین گرفتاریوں کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر 48 گھنٹوں میں خواتین کو رہا نہ کیا گیا تو وہ اور ان کے کارکنان کوئٹہ کی جانب مارچ کریں گے۔
احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
اختر مینگل نے مزید کہا کہ وہ خواتین کی رہائی کے بغیر واپس نہیں جائیں گے اور دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک مطالبات پورے نہیں ہوتے۔
یہ بھی پڑھیں: گوادر میں آل پارٹیز اتحاد نے 47 روزہ دھرنا مطالبات کی منظوری کے بعد ختم کر دیا
