امریکی کمیشن کی رپورٹ میں انڈین خفیہ ایجنسی ’را‘ پر پابندیاں عائد کرنے کی سفارش

اہم خبریںپاکستاندنیا

امریکہ کے کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی 2025 کی رپورٹ میں بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسی ‘را‘ پر مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک میں مزید خرابی آ رہی ہے اور سکھ علیحدگی پسندوں کے قتل کی سازشوں میں مبینہ طور پر ‘را’ کے ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ کمیشن نے اس بات کی سفارش کی ہے کہ امریکہ، بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسی ‘را’ اور اس سے وابستہ افراد پر پابندیاں عائد کرے۔

رپورٹ میں 2024 کے دوران بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف حملوں اور امتیازی سلوک میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی پر مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز بیان بازی اور غلط معلومات پھیلانے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

دوسری جانب بھارت نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی اور سیاسی طور پر متعصبانہ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ یہ رپورٹ جانبدارانہ ہے اور اس میں پیش کیے گئے حقائق کو مسخ کر کے دکھایا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں ایک اور سنگین الزام یہ ہے کہ 2023 میں نیویارک میں ایک امریکی سکھ شہری کے قتل کی کوشش میں بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسی ‘را’ کے افسران اور بھارت کے چھ سفارت کار ملوث تھے۔ یہ الزامات مختلف بین الاقوامی رپورٹس اور کینیڈین حکومت کی انٹیلیجنس معلومات پر مبنی ہیں۔

یو ایس سی آئی آر ایف نے ان واقعات کی بنیاد پر امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت کی انٹیلیجنس ایجنسیوں اور اس سے وابستہ افراد پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کی بنیاد پر پابندیاں عائد کرے۔

بھارت کا موقف ہے کہ یہ رپورٹ غیر منصفانہ ہے اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے، اور اس کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔