پی ٹی آئی کی اسٹیبلشمنٹ سے محاذ آرائی ختم کرنے کی کوشش، اتحادیوں سے رابطے تیز
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی سیاسی حکمت عملی میں نرمی لانے اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے لیے اپنے اتحادیوں سے مشاورت شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عمران خان کو قانونی ریلیف دلانا اور پارٹی کے لیے سیاسی جگہ حاصل کرنا ہے۔
اتحادی جماعتوں سے مذاکرات
دی نیوز کے انصار عباسی کی "جیو” کی سائیٹ پر شائع رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی (پی ایم اے پی) کے چیئرمین محمود خان اچکزئی سے کہا گیا ہے کہ وہ عمران خان کو اس بات پر قائل کریں کہ وہ:
- محاذ آرائی کی سیاست ترک کریں
- سوشل میڈیا پر جارحانہ مہم کو روکا جائے
- ریاست کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون کریں
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے مسائل کا حل صرف جمہوری طریقے سے ممکن ہے، نواز شریف
عمران خان سے ملاقات کی کوشش
ذرائع کے مطابق، علامہ راجہ ناصر عباس نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی ہے تاکہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کیا جا سکے۔ تاہم، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس بارے میں تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات
- اگرچہ پی ٹی آئی عید کے بعد حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کا اعلان کر رہی ہے، لیکن کئی رہنما سابقہ جارحانہ پالیسی کو دہرانے کے مخالف ہیں، کیونکہ اس سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔
- کچھ رہنماؤں کا ماننا ہے کہ عمران خان کے سخت بیانات اور سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ مخالف مہم کو ختم کیا جائے تاکہ کشیدگی کم ہو۔
- ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے پیش نظر، پارٹی کے بعض سینئر رہنما ریاستی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے حامی ہیں۔
سوشل میڈیا کی پالیسی پر غور
پارٹی کے سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ کردار پر کئی رہنما پریشان ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے سوا کوئی بھی اس نیٹ ورک کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔
