شدید گرمی دل کے مریضوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، تحقیق
نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدید گرمی دل کے مریضوں میں جلد موت کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال اوسطاً 49,483 صحت مند زندگیاں شدید گرمی کے باعث امراضِ قلب میں مبتلا ہو کر موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، اور اگر یہی رجحان برقرار رہا تو 2050 تک یہ تعداد دگنی سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق دل کی بیماری دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے، اور شدید گرمی اس مرض کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔ ایڈیلیڈ یونیورسٹی کے معروف محقق اور ماحولیاتی صحت کے ماہر پینگ بی نے وضاحت کی کہ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو ہمارے دل کو جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہ اضافی دباؤ دل کے مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین نے ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں نہ صرف دل کے مریضوں بلکہ عمومی صحت کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی نہ صرف امراضِ قلب میں اضافے کی وجہ بن رہی ہے بلکہ یہ مہلک متعدی بیماریوں کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ کر رہی ہے، جو عالمی سطح پر صحت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سنگین خطرے سے بچنے کے لیے ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے اور صحت کے تحفظ کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
