کیا سائنسدانوں کو حضرت نوحؑ کی کشتی مل گئی؟ تحقیق میں نئے انکشافات
🌍 استنبول: حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کے بارے میں سائنسدانوں کی حالیہ تحقیق میں نئے شواہد سامنے آئے ہیں۔
تحقیق کہاں ہو رہی ہے؟
🔬 استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی، ایگری ابراہیم سیسن یونیورسٹی اور امریکا کی اینڈریوز یونیورسٹی کے ماہرین 2021ء سے ترکیہ کے کوہِ ارارات میں کشتی نما چٹان پر تحقیق کر رہے ہیں۔
🔬 یہ چٹان ترکیہ کے صوبہ ایگری میں ڈوگوبایزیت شہر کے قریب واقع ہے اور 538 فٹ لمبی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سائنسدانوں نے دنیا میں پہلی بار سرخ پھولوں سے ہیرا تخلیق کرلیا
کیا یہ واقعی حضرت نوحؑ کی کشتی ہے؟
📌 ماہرین نے چٹان کی مٹی اور پتھروں کے 30 نمونے استنبول ٹیکنیکل یونیورسٹی میں بھیجے۔
📌 تحقیق سے آبی حیات اور پودوں کی 3 سے 5 ہزار سال پرانی باقیات دریافت ہوئیں، جو کشتی کے غرقاب ہونے کے وقت سے مطابقت رکھتی ہیں۔
کوہِ جودی یا کوہِ ارارات؟
📖 قرآن کے مطابق حضرت نوحؑ کی کشتی کوہِ جودی پر ٹھہری تھی۔
📖 کچھ اسلامی ماہرین مانتے ہیں کہ کوہِ جودی، کوہِ ارارات کا ہی حصہ ہے، جبکہ کچھ اسے ترکیہ-عراق کی سرحد پر واقع ایک پہاڑ قرار دیتے ہیں، جو ارارات سے 200 کلومیٹر دور ہے۔
کیا یہ حتمی ثبوت ہیں؟
🧐 اگرچہ تحقیق میں اہم شواہد ملے ہیں، مگر مکمل تصدیق نہیں کی جا سکی۔
🧐 سائنسدان مزید گہرائی میں جا کر اس مقام پر کھدائی کریں گے تاکہ کشتی کی اصلیت کا تعین کیا جا سکے۔
