چیمپئنز ٹرافی میں بھارت سے شکست کی بنیادی وجہ ٹیم کی ناتجربہ کاری تھی:عاقب جاوید

اہم خبریںپاکستانتازہ ترینکھیل

 

 پاکستان کرکٹ ٹیم کے عبوری ہیڈ کوچ عاقب جاوید نے کہا ہے کہ چیمپئنز ٹرافی میں بھارت سے شکست کی بنیادی وجہ ٹیم کی ناتجربہ کاری تھی، جب کہ کھلاڑی شکست پر افسردہ ہیں۔

پریس کانفرنس:

بدھ کے روز راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے مقابلے میں بھارتی ٹیم زیادہ تجربہ کار تھی، جب کہ پاکستانی ٹیم نوجوان اور کم تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، جو دباؤ برداشت نہ کر سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی اور محمد رضوان ہی وہ کھلاڑی ہیں جنہیں بین الاقوامی کرکٹ کا وسیع تجربہ حاصل ہے، جب کہ دیگر کھلاڑیوں نے ابھی کم ون ڈے میچز کھیلے ہیں۔ ان کے بقول، بھارتی ٹیم مکمل طور پر تجربہ کار کھلاڑیوں پر مشتمل تھی، جس نے پاکستان کے خلاف واضح برتری حاصل کی۔

بھارت سے شکست پر ردِعمل

ہیڈ کوچ نے تسلیم کیا کہ اگر بھارت کے خلاف میچ نہ ہوتا، تو شکست کا دکھ کم ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اب تمام تر توجہ بنگلہ دیش کے خلاف جمعرات کو ہونے والے میچ پر مرکوز ہے۔

واضح رہے کہ 23 فروری کو دبئی میں بھارت نے پاکستان کو 6 وکٹوں سے شکست دی تھی۔ پاکستانی ٹیم 241 رنز بنا سکی، جب کہ بھارت نے وراٹ کوہلی کی شاندار سنچری کی بدولت 242 رنز کا ہدف باآسانی 4 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: چیمپئنز ٹرافی 2025: آسٹریلیا-جنوبی افریقا کا میچ بارش کی نذر، ایک، ایک پوائنٹ مل گیا

"بھارت کے خلاف میگا ایونٹس میں شکست کی تاریخ پرانی ہے”

عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان میگا ایونٹس میں شکست جیت کی تاریخ پرانی ہے۔ "1992 میں بھی ہم ورلڈ کپ جیتے، مگر بھارت کو نہ ہرا سکے۔ یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، مگر ہم محنت کر کے اس روایت کو توڑنا چاہتے ہیں۔”

"تمام کھلاڑیوں کو نکال کر انڈر-19 ٹیم نہیں لائی جا سکتی”

چیمپئنز ٹرافی کے ابتدائی دو میچز میں شکست پر تبصرہ کرتے ہوئے ہیڈ کوچ نے کہا کہ بابر کے علاوہ بیٹنگ لائن میں کوئی بڑا نام موجود نہیں۔ تاہم، یہ ممکن نہیں کہ تمام کھلاڑیوں کو باہر کر کے انڈر-19 ٹیم کو شامل کر لیا جائے۔

فاسٹ بولرز کی کارکردگی پر مایوسی

شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور نسیم شاہ سے امیدیں وابستہ تھیں، مگر ان کی کارکردگی توقعات پر پورا نہیں اتری۔
نسیم شاہ نے 25 ون ڈے میچز کھیلے ہیں، اور موجودہ بولنگ لائن میں یہی سب سے تجربہ کار ہیں۔ مگر اس کے باوجود، ٹیم کو مطلوبہ کامیابی نہ مل سکی۔

ٹیم سلیکشن کا دفاع

عاقب جاوید نے چیمپئنز ٹرافی کے لیے ٹیم کے انتخاب کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت دستیاب بہترین کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم تیار کی گئی ہے۔ کوئی بھی کھلاڑی ایسا نہیں جس نے حالیہ عرصے میں عمدہ کارکردگی نہ دکھائی ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ سلیکٹرز کا کام بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں کو منتخب کرنا ہے، اور یہی ٹیم پاکستان کے لیے بہترین آپشن تھی۔

سعود شکیل کی سلیکشن کیوں؟

سعود شکیل کی سلیکشن پر بات کرتے ہوئے عاقب جاوید نے وضاحت کی کہ انہیں ٹیم میں شامل کرنے کا مقصد اسپن بولنگ کے خلاف ان کی مہارت تھی۔ اسپن بولنگ کے خلاف کھیلنے کے لیے ایسے بلے باز کی ضرورت تھی جو ان کنڈیشنز میں بہتر کارکردگی دکھا سکے۔