26 ویں ترمیم صرف پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے، دیگر ادارے کریں گے تو قبول نہیں: بلاول بھٹو زرداری

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کو صرف پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے، اگر کوئی اور ادارہ اسے رول بیک کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے:

  • کابینہ میں شمولیت کے حوالے سے  کہا کہ وہ وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بن رہے۔
  • پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ مضبوط ہے اور ہمارے نیوکلیئر اثاثے ذوالفقار علی بھٹو کا تحفہ اور بے نظیر بھٹو کی امانت ہیں۔
  • انہوں نے زور دیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کو ایک دوسرے کے لیے آسانیاں پیدا کرنی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کا دعوت نامہ بلاول بھٹو کو موصول

26 ویں ترمیم پر مؤقف

بلاول بھٹو زرداری نے کہا:

  • 26 ویں آئینی ترمیم کو رول بیک کرنے کا اختیار صرف پارلیمنٹ کے پاس ہے۔
  • اگر کوئی اور ادارہ آئین کو ختم کرنے کی کوشش کرے گا تو نہ وہ اسے مانیں گے اور نہ عوام۔
  • سپریم کورٹ ہو یا کوئی بینچ، دونوں کو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔

دیگر اہم نکات

  • امریکی صدر کی دعوت پر شرکت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ سلسلہ بے نظیر بھٹو کے دور سے چلا آ رہا ہے اور وہ اس دعوت میں شرکت کریں گے۔
  • پیکا ایکٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اگر میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا سے مشاورت ہوتی تو بہتر نتائج حاصل ہوسکتے تھے۔
  • حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اہم اقدام سے پہلے اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔

بلاول بھٹو نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور دیگر قومی امور پر بھی کھل کر بات کی۔