ٹرمپ کی سلطنت، بائیڈن دور کے 4 عہدیدار برطرف، کیپیٹل ہل حملے کے 1600 افراد کو معافی
ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن دور کے چار عہدیداروں کو برطرف کر دیا، کیپیٹل ہل فسادات کے 1600 افراد کیلئے بھی معافی کا اعلان کردیا گیا۔
واشنگٹن: نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا آغاز کرتے ہوئے اہم فیصلے کیے ہیں۔ ٹرمپ نے بائیڈن انتظامیہ کے دور میں مقرر ہونے والے چار اہم عہدیداروں کو برطرف کر دیا اور امریکی کیپیٹل ہل فسادات میں ملوث تقریباً 1600 افراد کے لیے معافی کا حکم جاری کیا ہے۔
بائیڈن انتظامیہ کے عہدیداروں کی برطرفی
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک "ٹروتھ سوشل” پر جاری کیے گئے ایک پیغام میں اعلان کیا کہ انہوں نے بائیڈن انتظامیہ کے 1000 سے زائد عہدیداروں کو برطرف کرنا شروع کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ افراد ان کے "امریکہ کو عظیم بنانے” کے وژن سے متفق نہیں تھے۔
انہوں نے جن چار اہم عہدیداروں کو برطرف کیا ان میں کھیل، صحت اور غذائیت سے متعلق صدر کی کونسل کے جوز اینڈریس، نیشنل انفراسٹرکچر ایڈوائزری کونسل کے مارک ملی، ولسن سینٹر کے برائن ہُک، اور صدر کی ایکسپورٹ کونسل کی کیشا لانس بوٹمز شامل ہیں۔
کیپیٹل ہل فسادات میں ملوث افراد کے لیے معافی کا اعلان
صدر ٹرمپ نے جنوری 2021 میں امریکی کیپیٹل ہل میں ہونے والے فسادات میں ملوث 1600 افراد کے لیے معافی کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ ان افراد پر یا تو فردِ جرم عائد ہو چکی تھی یا وہ سزا یافتہ تھے۔ ان میں انتہائی دائیں بازو کے گروہ "پراوڈ بوائز” اور "اوتھ کیپرز” کے 14 ارکان بھی شامل ہیں جن کی سزاؤں کو ٹرمپ نے معاف کر دیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کی زندگیاں تباہ ہو چکی ہیں اور جو کچھ ان کے ساتھ کیا گیا وہ "غلط اور بے انصافی” تھی۔ انھوں نے کہا کہ "یہ تمام یرغمالی ہیں، اور ان کی زندگیوں کو واپس لوٹانے کا وقت آ چکا ہے۔”
محکمہ انصاف کو کیپیٹل ہل فسادات کے زیر التوا مقدمات ختم کرنے کا حکم
اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے محکمہ انصاف کو ہدایت کی کہ وہ کیپیٹل ہل فسادات میں ملوث تمام مشتبہ افراد کے خلاف زیر التوا مقدمات کو ختم کر دے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ افراد غیر منصفانہ سلوک کا شکار ہوئے اور ان کے مقدمات کو سیاسی وجوہات کی بنا پر طول دیا گیا۔
کیپیٹل ہل فسادات: ایک نظر
جنوری 2021 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہزاروں حامیوں نے 2020 کے صدارتی انتخاب کے نتائج کو مسترد کرتے ہوئے امریکی قانون ساز اسمبلی پر دھاوا بول دیا تھا اور وہاں توڑ پھوڑ کی تھی۔ اس فسادات کو "کیپیٹل ہل فسادات” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ فسادات میں سینکڑوں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا اور متعدد افراد پر الزامات عائد کیے گئے تھے، جن میں بغاوت کی سازش اور سرکاری عمارت میں غیر قانونی داخلہ شامل تھے۔
ٹرمپ کا موقف: معافی اور انصاف
سوموار کی شام اوول آفس میں ایگزیکٹو احکامات پر دستخط کرنے کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے کیپیٹل ہل فسادات میں ملوث افراد کے ناموں کی فہرست پیش کی۔ ان کا کہنا تھا، "ہمارے ملک کی تاریخ میں ایسا شاذ و نادر ہی ہوا ہے، ان لوگوں کے ساتھ جو کچھ کیا گیا وہ بہت برا تھا۔”
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان افراد کو معاف کرنے کا فیصلہ انصاف کی جیت ہے، اور ان کی رہائی سے ان کی زندگیاں دوبارہ معمول پر آئیں گی۔ ان افراد میں اوتھ کیپرز کے رہنما سٹیورٹ رہوڈز بھی شامل ہیں، جنہیں 2023 میں 18 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، اور پراؤڈ بوائز کے سابق رہنما ہنری ٹیریو جنہیں بغاوت کی سازش کے الزام میں 22 سال قید کی سزا ملی تھی۔
