مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم پر اسلام آباد میں عالمی سربراہی کانفرنس، وزیر اعظم نے گرلز ایجوکیشن کو چیلنج قرار دیا

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد میں مسلم معاشروں میں لڑکیوں کی تعلیم پر ہونے والی عالمی کانفرنس آج سے شروع ہوگئی، جس میں 44 مسلم ممالک اور پاکستان کے دوست ممالک کے وزرا، سفیروں اور بین الاقوامی اداروں کے نمائندے شریک ہیں۔ نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی بھی کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لڑکیوں کی تعلیم کو موجودہ دور کا ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر بڑے اقدامات کرنے ہوں گے اور خاص طور پر غریب ممالک میں لڑکیوں کی تعلیم تک رسائی کو یقینی بنانا ہوگا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی خواتین رہنماؤں جیسے بینظیر بھٹو اور مریم نواز کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین ہر شعبے میں اپنے جوہر دکھا رہی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے بھی خواتین کی تعلیم کو اپنی زندگی کا مقصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین کی تعلیم کو قومی پالیسی اور بجٹ میں ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے معاشرتی رویوں کو چیلنج کرنا اور فیصلہ سازی میں خواتین کی شمولیت ضروری ہے۔

ملالہ یوسف زئی نے کانفرنس میں پاکستان آنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آنا ان کے لیے اعزاز کی بات ہے اور اس کانفرنس میں شرکت ان کے لیے بہت اہم ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر ’اسلام آباد اعلامیہ‘ پر دستخط کیے جائیں گے۔