لکی مروت، جوہری توانائی کے منصوبے کے مغوی ملازمین کی بازیابی کے لیے آپریشن جاری، 8 بازیاب
خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع لکی مروت میں جوہری توانائی کے منصوبے پر کام کرنے والے ملازمین کی بازیابی کے لیے سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے۔
گزشتہ روز اغوا کیے گئے اٹامک انرجی کمیشن کے ملازمین میں سے آٹھ کو بازیاب کر لیا گیا تھا، جبکہ باقی نو کی بازیابی کے لیے آپریشن ابھی تک جاری ہے۔ پولیس افسر عمران شاہد نے بتایا کہ تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے ان ملازمین کی جلد بازیابی کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اغوا کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملازمین گاڑی میں ڈیوٹی کے لیے قبول خیل فیکٹری جا رہے تھے، اور انہیں نامعلوم مسلح افراد نے اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق بازیاب ہونے والے آٹھ افراد میں سے تین زخمی ہیں، جنہیں علاج کے لیے سول ہسپتال لکی مروت منتقل کیا گیا۔ مغویوں کا تعلق لکی مروت اور قریبی علاقوں سے بتایا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اغوا کی واردات کا تعلق ممکنہ طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ٹیپو گل گروپ سے ہو سکتا ہے۔
اس دوران، لکی مروت میں ایک جرگہ بھی بلایا گیا جس میں علاقے کے عمائدین اور منتخب اراکین نے امن کے قیام کی اہمیت پر زور دیا اور وزیر اعلیٰ سے ملاقات کے لیے کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔ جرگے میں پی ٹی آئی کے ایم پی اے جوہر محمد، سابق ایم این اے کرنل ریٹائرڈ ڈاکٹر امیر اللہ مروت اور دیگر جماعتوں کے رہنما بھی شریک تھے۔
سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری ہے تاکہ باقی ملازمین کو جلد اور بحفاظت بازیاب کیا جا سکے۔
