پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے اور کبھی کبھار معمولی اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔احسن اقبال
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی ہماری اتحادی جماعت ہے اور اتحادی حکومت میں کبھی کبھار معمولی اختلافات ہوتے رہتے ہیں۔
سندھ کے وزیر ناصر حسین شاہ کے ساتھ میڈیا سے بات کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی دو بڑی سیاسی جماعتیں ہیں، جن کے اپنے نظریات ہیں، مگر جب بات ملک کے مفاد کی ہو تو دونوں جماعتیں اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی بحران اور دہشت گردی سے نکالنے کے لیے ہم اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے مزید کہا کہ ماضی میں ہم نے تین بڑی اڑانیں ناکام ہوتے دیکھیں، لیکن ‘اڑان پاکستان’ ایک ایسا منصوبہ ہے جو ملک کے مستقبل کے لیے ضروری ہے اور سیاست سے بالاتر ہے۔ پیپلز پارٹی کے تعاون سے حکومت اس پروگرام پر کام کر رہی ہے اور خیبر پختونخوا حکومت کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کا مقصد پاکستان کو ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنا ہے، اور ایکسپورٹ کو 30 ارب ڈالر سے 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے صوبوں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔ اڑان پاکستان کے تحت سندھ حکومت کی مدد سے 2022 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ منصوبہ حکومت کا نہیں، بلکہ پاکستانی قوم کا منصوبہ ہے۔
ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ وزیر خزانہ نے این ایف سی کے اجلاس کا اعلان کیا ہے اور اس پر جلد عملدرآمد ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر اعلانیہ جنگ کا سامنا کر رہا ہے اور سائبر اسپیس ایک نیا محاذ ہے۔ ہر ملک اپنے سائبر اسپیس کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے اور وفاقی حکومت نے رجسٹرڈ وی پی این کے ذریعے بلا تعطل انٹرنیٹ فراہم کیا ہے، جس سے سافٹ ویئر ایکسپورٹس میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
احسن اقبال نے مہنگائی کی شرح میں کمی پر بھی بات کی اور کہا کہ مہنگائی بڑھنے کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد پر آ گئی ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے، جو 30 ہزار پر تھی اور اب ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے مسائل کا حل اتحادیوں کی باہمی اتفاق سے ممکن ہے۔
وفاقی وزیر نے سابق پی ٹی آئی رہنماوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوام سے رسیدیں مانگتے تھے، لیکن جب ان سے خود رسیدیں مانگی گئیں تو وہ جعلی نکلیں۔ اگر پی ٹی آئی کے بانی اصل رسیدیں دکھا دیں تو وہ فوراً رہا ہو جائیں گے۔
