سال نو کی مبارکباد یا سائبر دھوکہ؟ مشکوک لنکس سے ہوشیار رہیں

سائنس ٹیکنالوجیسائنس ٹیکنالوجی

سال نو کا آغاز ہو گیا ہے، اور ہر طرف سے مبارکباد کے پیغامات آ رہے ہیں۔ دوست، رشتہ دار اور احباب اپنی خوشی کا اظہار دلکش تہنیتی پیغامات اور کارڈز کے ذریعے کر رہے ہیں۔ لیکن اس خوشی کے موقع پر ایک خطرہ بھی چھپا ہوا ہے جس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی سائبر کرائم پولیس نے خبردار کیا ہے کہ سائبر مجرمین ان تہنیتی پیغامات کو اپنا ہتھیار بنا کر شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ مجرم واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نئے سال کے کارڈز کے نام پر مشکوک لنکس بھیج رہے ہیں، جن پر کلک کرنے سے صارفین کا موبائل ہیک ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔

خطرہ کیسے ہوتا ہے؟

ان لنکس میں میلویئر اور وائرس شامل ہوتے ہیں جو صارفین کے موبائل فونز کا مکمل کنٹرول سائبر مجرموں کو دے دیتے ہیں۔ یہ مجرم موبائل میں موجود تصاویر، ویڈیوز، فون نمبرز، اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات چرا سکتے ہیں۔

کیا کرنا چاہیے؟

1. نامعلوم لنکس سے گریز کریں: اگر کوئی لنک کسی نامعلوم نمبر سے آئے، تو اس پر کلک نہ کریں۔

2. تصدیق کریں: کسی بھی لنک کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کریں کہ یہ محفوظ ہے۔

3. اپنے فون کو اپ ڈیٹ رکھیں: موبائل سیکیورٹی اپ ڈیٹس انسٹال کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔

 

سائبر کرائم پولیس کی اپیل:

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ہوشیار رہیں اور مشکوک لنکس یا تہنیتی کارڈز کے نام پر بھیجے گئے پیغامات کو نظرانداز کریں۔ اپنی ذاتی معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے ان پیغامات کو فوری ڈیلیٹ کریں اور اپنے قریبی افراد کو بھی آگاہ کریں۔