برازیل سے درآمد اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

دنیا

لیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت برازیل سے درآمد کیے گئے اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی جس میں 9 نسلیں شامل ہیں جن میں پاکستان کی مقامی نسلیں لال سندھی، گزیرہ، برہمن اور گر شامل ہیں۔

امریکی کمپنی "نیشنل ایئر لائنز” کا بوئنگ 747 کارگو طیارہ برازیل سے درآمد کیے گئے اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی پہلی کھیپ لے کر سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا۔

انیشی ایٹو

ساڑھے 22 گھنٹے کی پرواز انگولا اور عمان کے راستے برازیل کے ساؤ پالو سے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جس نے 9,044 میل کا فاصلہ طے کیا، یہ تاریخ کی سب سے طویل مویشیوں کی پرواز ہے، جو کہ 300 میل زیادہ ہے۔

اعلیٰ جینیاتی خصوصیات کے حامل یہ مویشی گوشت اور دودھ کی ضروریات کے لیے مقامی کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔

درآمد کیے جانے والے 9 نسلوں پر مشتمل ان مویشیوں میں پاکستان کی مقامی نسلیں اور برازیلین نسلیں شامل ہیں۔

پاکستان کی مقامی نسلوں میں لال سندھی، گزیرہ، برہمن اور گر شامل ہیں، جنہیں برازیل نے 1950 میں پاکستان سے حاصل کیا اور ان کی حفاظت اور افزائش کی، ان مویشیوں کو سیالکوٹ سے اوکاڑہ پہنچایا گیا ہے، جہاں ان کی افزائش کی جاتی ہے۔

دو ہفتے قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔