پی ٹی آئی کا اپنے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا اعلان

الیکشن 2024اہم خبریںپاکستانتازہ ترینسیاست

پی ٹی آئی نے نے الیکشن میں کامیاب ہونیوالےاپنے حامی آزاد امیدواروں کی سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پی ٹی آئی ، مجلس وحدت المسلمین اور سنی اتحاد کونسل کے رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

بیرسٹرگوہر، عمر ایوب، رؤف حسن، علامہ راجا ناصر عباس اور چیئرمین سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا پریس کانفرنس میں موجود تھے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر گوہر نے پریس کانفرنس میں کہاکہ پی ٹی آئی نیشنل اسمبلی کی 180 نشستوں پر جیت چکی ہے، کہاکہ ہم نے آزاد امیدواروں کو سپورٹ کیا اور وہ جیت گئے۔

بیرستر گوہر نے اعلان کیا کہ آزاد امیدواروں کو نوٹیفکیشن کے بعد تین دن میں کسی پارٹی کو جوائن کرنا ہوتا ہے، پاکستان تحریک انصاف کےحامی آزاد نومنتخب ارکان قومی وصوبائی اسمبلی سنی اتحادکونسل میں شمولیت اختیارکرینگے۔

کہاکہ اتفاق رائے سے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن مخصوص نشستیں قانون کے مطابق دیں۔

واضح رہے کہ عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے قومی اسمبلی کی 92، پنجاب اسمبلی کی 116، کے پی کے میں 80 اور سندھ اسمبلی کی 11 نشستیں حاصل کی ہیں۔

سنی اتحاد کونسل کا قیام کب ہوا؟

وکی پیڈیا کے مطابق سنی اتحاد کونسل جو 2009 میں قائم ہوئی، پاکستان میں اسلامی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا ایک اتحاد ہے جو سنی اسلام کے مکتب کے پیروکاروں کی نمائندگی کرتا ہے ۔

اس کے موجودہ چیئرمین سید محفوظ شاہ صاحب مشہدی ہیں

سنی اتحاد کونسل کی رکن جماعتیں

سنی اتحاد کونسل کی رکن جماعتوں میں پیر افضل قادری (گجرات) کی عالمی تنظیم اہل سنت اور جمعیت علمائے پاکستان شامل ہیں

جمعیت علمائے پاکستان (جے یو پی) کی بنیاد محمد عبدالغفور ہزاروی نے رکھی تھی

علیحدگی اختیار کرنے والا دھڑا سنی اتضاد کونسل (ف) کوصاحبزادہ فضل کریم اور حاجی حنیف طیب نے قائم کیا تھا اب حامد رضا کی قیادت میں ہے

"تحفظ پاکستان مہم”

وکی پیڈیا کے مطابق دسمبر 2011 میں، سنی اتحاد کونسل نے مہمند ایجنسی میں پاکستان کی سرحدی فوجی چوکیوں پر نیٹو کے حملوں کے خلاف عوامی بیداری پیدا کرنے کے لیے ملک گیر "تحفظ پاکستان مہم” شروع کی،23 دسمبر کو "مذمت امریکہ” منانے کا فیصلہ کیا۔خیال رہے کہ دسمبر میں نیٹو کے حملوں میں 24 سے زائد پاکستانی فوجی مارے گئے۔

سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم کی صدارت میں یہ فیصلہ اہلسنت مکتبہ فکر کی متعدد جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں کیا گیا

طالبان مخالف ریلیاں اور امریکی امداد

وکی پیڈیا کے مطابق امریکی حکومت کی ویب سائٹ Usaspending.gov سے پتہ چلتا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کو 2009 میں واشنگٹن سے 36,607 ڈالر ملے تھے۔ سنی اتحاد کونسل نے ماضی میں پاکستان میں طالبان مخالف ریلیاں نکالی تھیں،

ممتاز قادری کی حمایت میں مظاہرہ

طالبان مخالف ریلیوں کے بعداس کونسل نے ممتاز قادری کی حمایت میں مظاہرہ کیا ،ممتاز قادری نے گورنر پنجاب  سلمان تاثیر کوتوہین رسالت کے قوانین پر تنقید کرنے پر قتل کر دیا تھا۔ ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق، "قتل کے چند دن بعد، معروف مذہبی گروہوں نے توہین رسالت کے قانون کی حمایت میں کراچی میں پچاس ہزار سے زائد افراد کے مظاہرے کی قیادت کی۔

امریکہ کے خلاف جہاد کا فتویٰ

ستمبر 2011 میں کونسل نے ان افواہوں پر ردعمل ظاہر کیا کہ امریکہ ملک میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کی کوشش میں پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے۔ کونسل نے ایک فتویٰ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ امریکہ کے خلاف جہاد فرض ہو جائے گا، اگر وہ ملک پاکستانی سرزمین پر قبضہ کرے گا،

ملالہ یوسفزئی پر حملے کی مذمت

12 اکتوبر 2012 کو، پاکستان میں 50 اسلامی علماء کے ایک گروپ نے ملالہ یوسفزئی کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے طالبان  کے خلاف فتویٰ جاری کیا۔ سنی اتحاد کونسل کے اسلامی اسکالرز نے یوسف زئی اور اس کے دو ہم جماعت ساتھیوں کو گولی مارنے کے لیے مذہبی جواز پیش کرنے کی پاکستانی طالبان کی کوششوں کی عوامی سطح پر مذمت کی

پارٹی کی سیاسی تقسیم

وکی پیڈیا کے مطابق بعض سیاسی تقسیم کی وجہ سے سنی اتحاد کونسل دو حصوں میں بٹ گئی۔

بھکی شریف کے سید محمد محفوظ شاہ صاحب کی قیادت میں ایک دھڑے نے اعلان کیا کہ صاحبزادہ فضل کریم اور حاجی حنیف طیب کو رکن کی پیشگی اجازت کے بغیر پاکستان مسلم لیگ (ق) کے ساتھ اتحاد کرنے کی کوشش کی وجہ سے ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے،جس کے بعد صاحبزادہ فضل کریم نے ایک گروپ سنی اتحاد کونسل ف قائم کیا جبکہ سید محفوظ شاہ نے ایک اور گروپ بنایا جسے سنی اتحاد کونسل مشہدی کہا جاتا ہے۔ فضل کریم بعد میں انتقال کر گئے اور سنی اتحاد کونسل کی قیادت صاحبزادہ حامد رضا کو سونپی گئی