ملائشیا سے میانمار کے پناہ گزینوں کی ’جبری ملک بدری‘ پر تشویش
[ad_1]
‘یو این ایچ سی آر’کی اسسٹنٹ ہائی کمشنر برائے تحفظ ایڈیم ووسورنو نے کہا ہے کہ ملک بدر کیے جانے والے لوگوں میں بڑی تعداد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہے جنہیں واپسی پر سنگین خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان لوگوں کی واپسی کے فیصلے واقعتاً آزادانہ اور مکمل معلومات کی بنیاد پر کیے گئے تھے۔ ‘یو این ایچ سی آر’ کو ان افراد تک رسائی نہیں تھی کہ وہ اس معاملے کا جائزہ لے سکے۔
پناہ گزینوں کا تحفظ
‘یو این ایچ سی آر’ نے کہا ہے کہ وہ پناہ اور نقل مکانی کے معاملات کو منظم کرنے کے حوالے سے ملائشیا کی خودمختارانہ ذمہ داری کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے، تاہم کسی بھی شخص کو واپس بھیجنے سے پہلے موثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جانا چاہئیں۔ ان اقدامات میں ہر فرد کے معاملے کا علیحدہ جائزہ لینا اور ضرورت مند افراد کو تحفظ کے طریقہ کار تک رسائی فراہم کرنا بھی شامل ہے۔
ادارے کے مطابق، کسی بھی شخص کی واپسی کا فیصلہ رضاکارانہ ہونا چاہیے اور اس کا جائزہ حراستی مرکز سے باہر لیا جانا چاہیے۔ کسی فرد کو ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جانا چاہیے جہاں اسے مظالم، تشدد یا اس کی زندگی اور آزادی کو کسی سنگین خطرے کا سامنا ہو۔
جب تک میانمار میں محفوظ، باوقار اور پائیدار واپسی کے لیے سازگار حالات پیدا نہیں ہو جاتے اس وقت تک رکن ممالک کو وہاں سے آنے والے لوگوں کو پناہ فراہم کرتے رہنا چاہیے اور بین الاقوامی تحفظ سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا چاہئیں۔ ادارے نے میانمار میں مسائل کے سیاسی حل اور جنگ بندی کے لیے علاقائی و عالمی سطح پر مزید تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
شہریوں پر فضائی حملے
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے سربراہ ٹام فلیچر نے میانمار کی ریاست راخائن میں ایک بازار پر فضائی حملے کی سخت مذمت کی ہے جس میں 50 سے زیادہ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق، یہ حملہ میانمار کی فوج نے کیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہر طرح کے حالات میں شہریوں کا تحفظ ضروری ہے اور جنگ میں بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کیا جانا چاہیے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش بھی اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
[ad_2]
