ایران کشیدگی پر ترک صدر رجب طیب اردوان متحرک، ٹرمپ کو سفارت کاری جاری رکھنے کا مشورہ

اہم خبریںتازہ تریندنیا

ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے، جبکہ خطے میں بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو ترجیح دی جائے۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان 17 اگست 2026 کو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں ایران اور غزہ کی صورتحال سمیت علاقائی سلامتی، ترکیہ اور امریکا کے باہمی تعلقات اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک صدارتی دفتر کے مطابق اردوان نے گفتگو کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان موجودہ تناؤ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات دوبارہ جاری رہیں گے اور کہا کہ ترکیہ کشیدگی کم کرنے اور امن کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

غزہ کی صورتحال بھی زیر بحث

بات چیت کے دوران غزہ کی صورتحال بھی زیر بحث آئی۔ اردوان نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب غزہ سے متعلق امن منصوبے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت ہونی چاہیے تھی۔ ترکیہ نے غزہ میں دیرپا امن اور تعمیر نو کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم بھی دہرایا۔

مکہ دفاعی معاہدے پر تبادلہ خیال

دونوں صدور نے خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان نئے دفاعی معاہدے پر بھی بات کی۔ اردوان نے اس تعاون کو علاقائی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ یہ معاہدہ 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں طے پایا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اردوان کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال بھی خطے اور عالمی تجارت کے لیے اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ ایسے میں ترکیہ خود کو کشیدگی کم کرنے والی سفارتی کوششوں کے لیے ایک ممکنہ رابطہ کار کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اردوان کا واضح پیغام

ترک صدر کی ٹرمپ سے گفتگو کا مرکزی نکتہ یہی تھا کہ مذاکرات کے دروازے بند کرنے کے بجائے سفارت کاری کو مزید وقت دیا جائے۔ انقرہ کا مؤقف ہے کہ موجودہ بحران کا پائیدار حل فوجی دباؤ کے بجائے مذاکرات اور علاقائی سفارتی کوششوں کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔