سڈنی بونڈی بیچ دہشت گرد حملہ: حملہ آور ساجد اکرم بھارتی نژاد نکلا، 1998 میں حیدرآباد سے آسٹریلیا ہجرت
آسٹریلیا کے مشہور ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر 14 دسمبر کو یہودی تہوار ہنوکا کی تقریب پر ہونے والے خوفناک دہشت گرد حملے میں نئی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ حملہ آور باپ بیٹے ساجد اکرم (50 سال) اور نوید اکرم (24 سال) تھے، جنہوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 15 شہریوں کو ہلاک اور 40 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ساجد اکرم موقع پر ہلاک ہو گئے، جبکہ نوید زخمی ہو کر اسپتال میں زیر حراست ہیں۔
بھارتی میڈیا (جیسے Indian Express، Hindustan Times، The Hindu) اور تلنگانہ پولیس کی تصدیق کے مطابق ساجد اکرم کا تعلق بھارتی شہر حیدرآباد سے ہے۔ وہ 1998 میں سٹوڈنٹ ویزے پر آسٹریلیا گئے، جہاں انہوں نے بی کام مکمل کیا اور بعد میں شادی کرکے مستقل رہائش حاصل کی۔ ساجد نے آسٹریلیا میں فروٹ شاپ کا کاروبار کیا اور قانونی طور پر 6 ہتھیار رکھے تھے۔ ان کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلیا میں پیدا ہوا اور برک لیئر کا کام کرتا تھا۔
فلپائن امیگریشن حکام نے انکشاف کیا کہ باپ بیٹے نومبر 2025 میں تقریباً پورا مہینہ فلپائن میں گزارے، جہاں ساجد بھارتی پاسپورٹ پر داخل ہوئے۔ یہ سفر شدت پسند گروہوں سے ممکنہ روابط کی تحقیقات کا حصہ بن گیا ہے۔ آسٹریلوی پولیس نے حملے کو داعش (اسلامک اسٹیٹ) سے متاثر دہشت گردی قرار دیا، کیونکہ حملہ آوروں کی گاڑی سے IS جھنڈے اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا۔
زخمی حملہ آور نوید اکرم کومے سے باہر آ گئے ہیں اور اسپتال میں ہوش میں ہیں۔ آسٹریلوی میڈیا (جیسے Guardian، ABC) کے مطابق انہوں نے پولیس سے بات کی ہے، اور جلد ہی ان پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔ نوید 2019 میں آسٹریلوی انٹیلی جنس (ASIO) کی نظر میں آ چکا تھا، مگر کوئی خطرہ نہ پایا گیا۔
یہ حملہ آسٹریلیا کا 30 سال میں بدترین ماس شوٹنگ ہے، جس نے یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنایا۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے گن قوانین سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی سطح پر سانحے کی مذمت کی جا رہی ہے، جبکہ سڈنی میں سوگ کی لہر ہے۔ تحقیقات جاری ہیں، مگر ابتدائی شواہد حملے کو antisemitic اور IS سے متاثر قرار دے رہے ہیں۔
