نریندر مودی کی ڈگری تک رسائی کا حکم منسوخ
دہلی ہائی کورٹ نے سینٹرل انفارمیشن کمیشن (سی آئی سی) کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جس کے تحت دہلی یونیورسٹی کو وزیر اعظم نریندر مودی کی انڈرگریجویٹ ڈگری کے ریکارڈ عام کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
جسٹس سچن دتّا پر مشتمل سنگل بینچ نے قرار دیا کہ تعلیمی اسناد اور ڈگریاں کسی بھی شخص کی "ذاتی معلومات” کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کی فراہمی کا مطالبہ رائٹ ٹو انفارمیشن (آر ٹی آئی) قانون کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔
عدالت نے مزید کہا کہ "ہر وہ چیز جس میں عوام کی دلچسپی ہو، اسے عوامی مفاد نہیں کہا جا سکتا۔” فیصلے میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ کسی فرد کی نجی زندگی میں عوامی تجسس، معلومات کے حق کا جواز نہیں بن سکتا۔
پس منظر:
یہ معاملہ 2016 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب نیرج نامی شہری نے آر ٹی آئی کے تحت دہلی یونیورسٹی سے 1978 میں بی اے کرنے والے تمام طلبہ کا ریکارڈ مانگا۔ یاد رہے کہ نریندر مودی کے متعلق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اسی سال گریجویشن مکمل کی تھی۔
سی آئی سی نے 2016 میں ان ریکارڈز کو عوام کے لیے قابلِ رسائی قرار دیا، تاہم جنوری 2017 میں دہلی ہائی کورٹ نے اس پر حکمِ امتناع جاری کر دیا تھا، جو اب مکمل طور پر کالعدم ہو چکا ہے۔
راہول گاندھی کا وزیراعظم مودی سے تین تند و تیز سوالات: ’’آپ نے بھارت کی عزت کا سودا کیوں کیا؟‘‘
کیجریوال کو جرمانہ:
اس معاملے کی حساسیت اس وقت اور بھی بڑھ گئی جب 2023 میں گجرات ہائی کورٹ نے دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو وزیر اعظم کی ڈگری سے متعلق معلومات طلب کرنے پر نہ صرف 25,000 روپے کا جرمانہ عائد کیا بلکہ ان کے ارادے پر بھی سوال اٹھایا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ "جب وزیر اعظم کی ڈگریاں پہلے ہی عوام کے سامنے آ چکی ہیں، تو کیجریوال کو اس معاملے کو متنازع بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟”
