پاکستان خالصتان کو آزاد ریاست تسلیم، یو این میں ریفرنڈم کی حمایت کرے، گرپتونت سنگھ پنوں
سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارتی پنجاب (خالصتان) کی علیحدگی کے لیے ریفرنڈم کی حمایت کرے اور خالصتان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکھ برادری پاکستان کے دفاع کے لیے اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور بھارتی فوج کو پنجاب کی سرزمین استعمال کر کے پاکستان پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بات انہوں نے سینئر صحافی اظہر جاوید کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی، جس میں انہوں نے بھارت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور خالصتان تحریک کے مستقبل کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔
پہلگام واقعہ ایک "فالس فلیگ آپریشن” قرار
گرپتونت پنوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے پہلگام واقعے میں ہندو عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد کو جان بوجھ کر قتل کیا تاکہ مودی سرکار بہار میں ہونے والے انتخابات میں ہمدردی حاصل کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات کے ذریعے بھارتی حکومت امریکی صدور کے دورہ بھارت کے موقع پر پراکسی وار چھیڑتی ہے اور الزام ہمیشہ پاکستان پر ڈالتی ہے۔
"یہ 1965 یا 1971 نہیں، ہم چٹان کی طرح کھڑے ہیں”
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ دور بدل چکا ہے، اور یہ 1965 یا 1971 نہیں۔ اب خالصتان کے حامی پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور بھارتی فوج کو خالصتان (پنجاب) سے گزر کر پاکستان پر چڑھائی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ "ہماری عقیدت پاکستان سے جڑی ہے کیونکہ وہاں بابا گرونانک صاحب کی جائے پیدائش موجود ہے”، انہوں نے زور دے کر کہا۔
اقوام متحدہ میں خالصتان کے حق میں آواز بلند کرنے کا مطالبہ
پنوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بطور غیر مستقل رکن خالصتان کے لیے ریفرنڈم کا مطالبہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت خود اقرار کر چکی ہے کہ اس نے بنگلہ دیش بنوایا، اور اب وہ بلوچستان میں دہشتگردی کو ہوا دے رہی ہے۔
بھارتی فوج کے سکھ اہلکاروں کو پیغام
سکھ فار جسٹس کے رہنما نے انکشاف کیا کہ انہوں نے بھارتی فوج میں موجود سکھ اہلکاروں کو خبردار کر دیا ہے کہ پاکستان ان کا دشمن نہیں بلکہ بھارت ہے، جس نے 1984 میں دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) پر حملہ کر کے سکھ قوم کی نسل کشی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ "ہماری نسلیں 1984 سے 1995 تک مسلسل نشانہ بنتی رہیں، اور ہم اب مزید خاموش نہیں رہ سکتے۔”
