امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فاکس نیوز پر برہم، ڈیموکریٹس کو کوریج دینے پر شدید تنقید
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے موقع پر قدامت پسند امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ چینل ڈیموکریٹس کو ضرورت سے زیادہ کوریج دے رہا ہے، جس کے باعث اس کے ناظرین کی تعداد اور ریٹنگز میں نمایاں کمی آرہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے منگل کے روز اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر متعدد پیغامات جاری کیے جن میں فاکس نیوز کی انتخابی کوریج، پبلک سروے اور ریٹنگز کے حوالے سے شدید اعتراضات اٹھائے گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ چینل کی ریٹنگز میں 27 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے اور اس زوال کی اصل وجہ ڈیموکریٹس کو ضرورت سے زیادہ سکرین ٹائم دینا ہے۔
فاکس نیوز کی اہم تفصیلات اور پس منظر
سوشل میڈیا بیانات اور ناظرین سے لاتعلقی کا اظہار
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں مزید لکھا کہ جو ناظرین پہلے باقاعدگی سے فاکس نیوز دیکھتے تھے اور اب اس پلیٹ فارم سے دور ہو چکے ہیں، انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس تبدیلی اور ناظرین کی ناراضگی کا واحد ذمہ دار چینل خود ہے، وہ نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی اپنی سیاسی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی بلکہ وہ پہلے سے کہیں زیادہ مقبول ہیں۔ اپنی مقبولیت کے دعوے کے حق میں انہوں نے سی این این کے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ری پبلکن ووٹرز کے اندر ان کی مقبولیت کی شرح 99 فیصد تک ہے، جبکہ مجموعی طور پر ری پبلکن صدور کے درمیان ان کی شرح 53 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے سابق امریکی صدور رونالڈ ریگن اور ابراہم لنکن کے حوالے سے بھی مختلف تاریخی اعداد و شمار پیش کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، میڈیا رپورٹس کے مطابق ان اعداد و شمار کو تازہ ترین سی این این سروے کا مصدقہ نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ معروف امریکی خبر رساں ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے جن پولنگ نتائج کا حوالہ دیا، وہ ایک ماہ سے زیادہ پرانے تھے۔
تجزیہ کار جیسیکا ٹارلوف کو نشانہ بنانا
فاکس نیوز کی مجموعی پالیسیوں پر تنقید سے چند روز قبل صدر ٹرمپ نے اس معروف چینل کے مقبول پروگرام ’دی فائیو‘ کی شریک میزبان اور جانی پہچانی سیاسی تجزیہ کار جیسیکا ٹارلوف کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جیسیکا ٹارلوف کی آواز اور ان کے سیاسی تبصروں کے انداز پر شدید اعتراضات اٹھائے تھے۔ صدر کا کہنا تھا کہ جب تک وہ نشریات کا حصہ رہیں گی، وہ فاکس نیوز کی بجائے کوئی دوسرا چینل دیکھنا پسند کریں گے۔ ٹرمپ کی جانب سے فاکس نیوز کی بااثر شخصیات اور انتظامیہ پر اس قسم کے مسلسل حملوں نے میڈیا اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
انتظامیہ کا موقف اور ریٹنگز میں کمی کے اسباب
دوسری جانب فاکس کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو لاکلن مرڈوک نے سرمایہ کاروں سے تفصیلی گفتگو کے دوران چینل کی ریٹنگز میں آنے والی کمی کی بالکل مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق ریٹنگز میں کمی کی اصل وجہ ناظرین کی سیاسی تھکاوٹ ہے، نہ کہ کوئی ادارتی جانبداری۔ لاکلن مرڈوک نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اکتوبر کے مہینے میں فاکس نیوز کے ناظرین کی تعداد گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 28 فیصد کم ریکارڈ کی گئی۔ یہ تنقید اور لفظی جنگ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پورے ملک میں وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے اعلانات کا سلسلہ جاری ہے اور مختلف اہم انتخابی حلقوں میں ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
