پردہ کرنے والی خواتین کے ساتھ معاشرے میں زیادہ برا سلوک کیا جاتا ہے، حنا خواجہ بیات کا انکشاف

انٹرٹینمنٹپاکستانتازہ ترین

کراچی: پاکستان ٹیلی ویژن انڈسٹری کی نامور اور سینئر اداکارہ حنا خواجہ بیات نے انکشاف کیا ہے کہ معاشرے میں حجاب اور پردہ کرنے والی خواتین کے ساتھ عام لباس پہننے والی خواتین کے مقابلے میں زیادہ برا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ حنا خواجہ بیات، جو اپنی جاندار اداکاری کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر بے باک اور مدلل گفتگو کے لیے جانی جاتی ہیں، نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے ہراسانی کے حساس موضوع پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

حنا خواجہ کی اہم تفصیلات اور پس منظر

سماجی تجربہ اور معاشرتی رویے

پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سینئر اداکارہ نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں اور مختلف سماجی موضوعات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ہراسانی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے ایک ذاتی تجربہ شیئر کیا جس نے معاشرے کے دوہرے معیار کو بے نقاب کیا۔ حنا خواجہ بیات کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک مرتبہ عملی طور پر یہ جاننے کے لیے کہ معاشرہ خواتین کو کس نظر سے دیکھتا ہے، ایک چھوٹا سا سماجی تجربہ کیا۔ اس تجربے کے دوران انہوں نے دو لڑکیوں کو عام دیسی لباس پہنا کر ایک مصروف بازار سے گزارا تاکہ دیکھا جا سکے کہ وہاں موجود افراد کا ردعمل کیا ہوتا ہے۔

بازار کا مشاہدہ اور خواتین کے حقوق

اداکارہ کے مطابق جب ان لڑکیوں کو عام روایتی دیسی لباس میں بازار سے گزارا گیا تو لوگوں نے انہیں دیکھا ضرور لیکن کسی بھی شخص نے ان کے ساتھ کوئی نازیبا گفتگو یا نامناسب رویہ اختیار نہیں کیا۔ اس تجربے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ بظاہر عام لباس پہننے والی خواتین کو کس قسم کی سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اس کے برعکس جب پردہ یا حجاب کرنے والی خواتین کے حوالے سے بات کی گئی تو اداکارہ کا مؤقف تھا کہ مذہب یا روایت کے مطابق لباس پہننے والی خواتین کو معاشرے میں کہیں زیادہ تعصب اور برے رویوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

فنکارہ کا کیریئر اور سماجی شعور

حنا خواجہ بیات نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ٹی وی میزبان کیا تھا اور وہ طویل عرصے تک ایسے معلوماتی اور سماجی پروگراموں کا حصہ رہی ہیں جن میں عام آدمی کے مسائل اور معاشرتی ناانصافیوں کو اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔ ان کے مداح نہ صرف ان کی اداکاری اور خوبصورتی کو سراہتے ہیں بلکہ ان کی ذہانت اور سماجی امور پر گہری گرفت کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر معاشرے میں خواتین کے تحفظ اور ان کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویوں پر ایک اہم بحث کو جنم دے دیا ہے۔