اے آئی اداکاروں اور فلم سازوں کی جگہ نہیں لے سکتی، رنبیر کپور کا دوٹوک مؤقف
ممبئی: بالی ووڈ اداکار رنبیر کپور نے فلم انڈسٹری میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی فلم سازی کو بہتر بنانے کا ذریعہ تو بن سکتی ہے، لیکن انسانی تخلیقی صلاحیتوں اور اداکاری کا متبادل نہیں بن سکتی۔ رنبیر کپور نے بی بی سی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کو فلم سازی میں ایک معاون ٹول کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے ویژول ایفیکٹس (VFX) اور جدید کیمرہ ٹیکنالوجی فلم کے معیار کو بہتر بناتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کہانی سنانے، فن اور پرفارمنگ آرٹس میں انسانی جذبات اور احساسات کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے انہیں مصنوعی ذہانت سے مکمل طور پر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اے آئی کی اہم تفصیلات اور پس منظر
فلم سازی میں ٹیکنالوجی کا استعمال اور حدود
اداکار یش نے بھی اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی کے استعمال میں ذمہ داری اور احتیاط ضروری ہے۔ ان کے مطابق ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران اس بات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ فلم سازی میں انسانوں کا کردار اور تخلیقی محنت شامل ہوتی ہے۔ رنبیر کپور اور یش کے یہ بیانات ان کی آنے والی فلم ‘رامائن’ کی تشہیری سرگرمیوں کے دوران سامنے آئے ہیں۔ فلم کے ویژول ایفیکٹس اور بڑے پیمانے پر تیار کیے گئے مناظر کے حوالے سے بھی فلمی حلقوں میں خاصی گفتگو جاری ہے اور ماہرین اس ٹیکنالوجی کے نفاذ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ملازمتوں اور تخلیقی حقوق کے تحفظ کا چیلنج
فلم سازی میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے اداکاروں، مصنفین، ویژول ایفیکٹس آرٹسٹس، ایڈیٹرز اور دیگر تکنیکی ماہرین کے مستقبل سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔ اے آئی کے ذریعے ڈیجیٹل کردار تخلیق کرنے، آواز کی نقل تیار کرنے، ویژول ایفیکٹس بہتر بنانے اور مختلف زبانوں میں فلموں کی ڈبنگ کے عمل کو آسان بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس سے فلم سازی کا وقت اور لاگت تو کم ہو سکتی ہے، تاہم بعض شعبوں میں انسانی ملازمتوں اور فنکاروں کے حقوق سے متعلق خدشات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجی سے مکمل فائدہ اٹھاتے ہوئے فنکاروں کی محنت، ان کے تخلیقی حقوق اور روزگار کا تحفظ کیسے یقینی بنایا جائے۔
فلم انڈسٹری کا مستقبل اور ماہرین کی رائے
رنبیر کپور کا مؤقف فلمی صنعت میں جاری اس بحث کو مزید اہم بنا دیتا ہے کہ آیا مستقبل کی فلم سازی میں مصنوعی ذہانت صرف انسان کی معاون رہے گی یا پھر آنے والے وقتوں میں بعض شعبوں میں اس کی جگہ بھی لے سکتی ہے۔ فلم سازوں اور تکنیکی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر لے، سنیما کا جادو اور روح ہمیشہ جاندار اداکاری اور انسانی کہانی کاری سے ہی جڑی رہے گی۔ آرٹسٹوں کے حقوق اور ٹیکنالوجی کی ترقی کے درمیان توازن قائم کرنا ہی آنے والے دور کے فلم سازوں کی سب سے بڑی ذمے داری ہوگی تاکہ فن اور روزگار دونوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے
