امریکی اے آئی کمپنیوں کو چیلنج، چین کی کمپنی ڈیپ سیک نے سپر ایجنٹ متعارف کرا دیا
امریکی اے آئی کمپنیوں کو چیلنج، چین کی ڈیپ سیک نے سپر ایجنٹ متعارف کرا دیا
بیجنگ: چین کی معروف آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کمپنی ڈیپ سیک نے امریکی کمپنیوں کے مقابلے میں اپنا نیا خودکار اے آئی ٹول ’’سپر ایجنٹ‘‘ متعارف کرا دیا ہے۔ یہ ٹول سافٹ ویئر ڈویلپرز کے کام کو آسان بنانے، کوڈنگ کے مسائل حل کرنے اور انسانی وقت بچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈیپ سیک اے آئی سپر ایجنٹ کی اہم تفصیلات اور پس منظر
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیپ سیک کا نیا سپر ایجنٹ امریکی کمپنی انتھروپک کے ’’کلاڈ کوڈ‘‘ اور اوپن اے آئی کے کوڈنگ ٹولز کے مقابلے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
عام اے آئی چیٹ بوٹس کے برعکس یہ ٹول صرف صارف کے سوالات کے جواب دینے تک محدود نہیں بلکہ مختلف کام خودکار انداز میں انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سپر ایجنٹ ڈویلپرز کے گروپ چیٹس اور گٹ ہب (GitHub) پر ہونے والی گفتگو کا جائزہ لے کر سافٹ ویئر میں موجود مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ مسائل سامنے آنے پر ان کی وجوہات تلاش کرنے اور ممکنہ حل تجویز کرنے میں بھی مدد دیتا ہے۔
اس ٹول کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بعض حالات میں صارف کی جانب سے براہ راست مدد طلب کیے بغیر بھی مسائل کی نشاندہی کر سکتا ہے، تاہم اسے کام کرنے کے لیے مقررہ اجازتوں اور ٹیم کے طے کردہ اصولوں کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔
ڈیپ سیک کی جانب سے گٹ ہب پر جاری کردہ یوزر گائیڈ کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد انسانی توجہ اور وقت کا کم سے کم استعمال کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فائدہ فراہم کرنا ہے۔
کمپنی کی ہارنس ٹیم نے اس ٹیکنالوجی کا تعارف 31 اکتوبر کو اپنے وی چیٹ اکاؤنٹ کے ذریعے کرایا، جبکہ اس کا تجرباتی کوڈ گٹ ہب پر بھی جاری کیا گیا ہے۔ یہ ٹول بائٹ ڈانس کے تعاون سے چلنے والے ورک پلیٹ فارم فی شو (Feishu) کے ساتھ بھی کام کر سکتا ہے۔
تاہم ڈیپ سیک نے واضح کیا ہے کہ گٹ ہب پر جاری کیا گیا ورژن ایک تحقیقی تجرباتی منصوبہ ہے، اسے کمپنی کی مکمل اور باقاعدہ تجارتی پراڈکٹ نہیں سمجھنا چاہیے۔
دوسری جانب ڈیپ سیک کی مالی استعداد میں بھی بڑا اضافہ ہوا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کمپنی نے سرمایہ کاروں سے تقریباً 100 ارب چینی یوآن، یعنی 14.98 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کی ہے۔ اس سرمایہ کاری میں ٹینسنٹ اور چینی بیٹری ساز کمپنی سی اے ٹی ایل سمیت متعدد بڑے اداروں نے حصہ لیا۔
ماہرین کے مطابق چین اور امریکا کے درمیان مصنوعی ذہانت کے شعبے میں مقابلہ مزید تیز ہو رہا ہے اور خودکار اے آئی ایجنٹس آنے والے وقت میں سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ سمیت کئی شعبوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
