ملتان غلہ منڈی میں 114 سرکاری دکانیں سیل،100 ملین روپے سے زائد کرایہ واجب الادا
ملتان: ضلعی انتظامیہ نے حکومت کو ادا کیے جانے والے کرایے اور دیگر واجبات کی وصولی کے لیے ملتان کی غلہ منڈی میں 114 دکانیں سیل کر دی ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق، ان دکانوں پر واجب الادا سرکاری رقوم کا کل حجم 101.9 ملین روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔
یہ کارروائی طویل عرصے سے واجب الادا سرکاری کرایوں کی وصولی کے لیے کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب سرکاری ملکیت کی جائیدادوں کا کرایہ وقت پر وصول نہیں کیا جاتا تو حکومت کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے؛ اسی لیے نادہندگان کے خلاف مہم کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔
114 دکانیں کیوں سیل کی گئیں؟
دستیاب تفصیلات کے مطابق، غلہ منڈی میں موجود سرکاری ملکیت کی متعدد دکانوں کا کرایہ طویل عرصے سے ادا نہیں کیا گیا تھا، جس کے باعث واجب الادا رقم 101.9 ملین روپے سے بڑھ گئی تھی۔
ضلعی انتظامیہ نے واجبات کی وصولی کے لیے متعلقہ دکانوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 114 دکانیں سیل کر دیں۔ اس آپریشن کا بنیادی مقصد سرکاری محصولات کی وصولی اور سرکاری جائیدادوں سے متعلق مالی معاملات کو ضوابط کے مطابق لانا ہے۔ انتظامیہ اس اقدام کو سرکاری واجبات کی وصولی کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھتی ہے؛ مزید برآں، ان دکانوں کو سیل کرنے سے ان تاجروں اور کاروباری مالکان کو بھی واضح پیغام ملتا ہے جن پر سرکاری کرایہ یا دیگر واجبات بقایا ہیں۔
سرکاری محصولات کی وصولی پر انتظامیہ کی توجہ
ملتان میں سرکاری اراضی اور دکانوں سے متعلق واجبات کی وصولی ضلعی انتظامیہ کے لیے ایک اہم مالی معاملہ ہے۔ سرکاری دکانوں کے کرایے کی وصولی میں تاخیر نہ صرف سرکاری محصولات پر اثر انداز ہوتی ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ واجب الادا بقایا جات میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
غلہ منڈی میں حالیہ آپریشن اس بات کا ثبوت ہے کہ ضلعی انتظامیہ نے سرکاری جائیدادوں کے کرایوں اور واجبات کی وصولی کے حوالے سے سخت مؤقف اپنایا ہے۔
100 ملین روپے سے زائد واجب الادا رقوم
اس آپریشن کا ایک اہم پہلو 101.9 ملین روپے سے زائد کے واجب الادا بقایا جات ہیں۔ پاکستانی کرنسی میں اس رقم کا تخمینہ تقریباً 101.9 ملین روپے (10 کروڑ 19 لاکھ روپے) ہے۔
انتظامیہ کے مطابق، دکانوں کو سیل کرنے کا مقصد سرکاری واجبات کی وصولی کو یقینی بنانا ہے۔ تاہم، دکانوں کو دوبارہ کھولنے یا بقایا جات کی ادائیگی کا حتمی طریقہ کار متعلقہ انتظامی احکامات اور واجب الادا رقوم کی اصل وصولی پر منحصر ہوگا۔
یہ اقدام ملتان کے شہریوں اور کاروباری برادری کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ سرکاری تجارتی املاک سے حاصل ہونے والی آمدنی کو قومی خزانے کے لیے آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
اگر ضلعی انتظامیہ سرکاری دکانوں اور دیگر تجارتی املاک سے بقایا جات کی وصولی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھتی ہے، تو اس سے سرکاری آمدنی میں اضافے اور ریاستی ملکیتی اثاثوں کے مالی انتظام میں بہتری متوقع ہے۔
