المناک واقعات کے دوران ہانیہ عامر کی ڈانس ویڈیو پر ہنگامہ، سوشل میڈیا صارفین نے آڑے ہاتھوں لے لیا

انٹرٹینمنٹپاکستانتازہ ترین

پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک نئی ویڈیو نے اس وقت توجہ حاصل کرلی جب ملک میں حالیہ المناک واقعات کے باعث سوگ کی فضا برقرار ہے۔ ویڈیو پر سوشل میڈیا صارفین نے اداکارہ کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایسے حساس وقت میں معروف شخصیات کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کس نوعیت کا مواد شیئر کرنا چاہیے۔

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ ہانیہ عامر ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہیں، تاہم اس بار وجہ ان کا کوئی ڈرامہ، فلم یا انٹرویو نہیں بلکہ ان کی جانب سے انسٹاگرام پر شیئر کی جانے والی ایک ڈانس ویڈیو بنی ہے۔

ہانیہ عامر نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں وہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شرٹ پہنے کھلی چھت والی گاڑی میں موجود دکھائی دیتی ہیں۔ ویڈیو میں اداکارہ کافی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ایک گانے پر رقص بھی کرتی نظر آئیں۔

ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آتے ہی صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس پر اپنی ناراضی کا اظہار شروع کردیا۔ بعض صارفین نے ویڈیو کے مواد سے زیادہ اس کے وقت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک میں حالیہ افسوسناک واقعات کے باعث عوام غم کی کیفیت میں ہیں، ایسے میں معروف شخصیات کی جانب سے معمول کی تفریحی سرگرمیوں پر مبنی پوسٹس سوالات کو جنم دیتی ہیں۔

تنقید کرنے والے صارفین کا کہنا تھا کہ ہانیہ عامر پاکستان کی مقبول ترین اور سب سے زیادہ فالو کی جانے والی شوبز شخصیات میں شامل ہیں، اس لیے ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر عام صارفین کے مقابلے میں زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ بعض صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ اتنے بڑے پلیٹ فارم رکھنے والی شخصیات اگر معاشرتی مسائل اور انسانی المیوں پر بات کریں تو ان معاملات کو زیادہ توجہ مل سکتی ہے۔

پمز اسپتال کا افسوسناک واقعہ بھی زیرِ بحث

سوشل میڈیا پر ہونے والی بحث میں اسلام آباد کے پمز اسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کا بھی حوالہ دیا گیا۔ صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ آتشزدگی کے نتیجے میں نومولود بچوں کی اموات نے ملک بھر میں غم اور تشویش کی لہر پیدا کی، اس لیے ایسے موقع پر ہانیہ عامر کی ڈانس ویڈیو انہیں نامناسب محسوس ہوئی۔

کچھ صارفین نے اداکارہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے پلیٹ فارم کو ایسے واقعات کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے حق میں آواز بلند کرنے کے لیے بھی استعمال کریں۔

آیت نور کیس کا بھی ذکر

سوشل میڈیا صارفین کی تنقید صرف پمز اسپتال کے واقعے تک محدود نہیں رہی۔ بعض افراد نے ہری پور میں چار سالہ آیت نور کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ زیادتی اور قتل کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے بھی معروف شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے حساس معاملات پر بات کریں اور متاثرہ خاندانوں کے لیے آواز اٹھائیں۔

تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے تمام تبصروں کو کسی ایک رائے سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ صارفین نے یہ بھی کہا کہ کسی فنکار کی جانب سے تفریحی مواد شیئر کرنا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ملک میں ہونے والے واقعات سے لاتعلق ہے۔ ان کے مطابق ہر شخص اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو اپنی مرضی سے استعمال کرنے کا حق رکھتا ہے۔

یوں ہانیہ عامر کی ویڈیو نے ایک مرتبہ پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ قومی یا انسانی سانحات کے دوران عوامی شخصیات کی سوشل میڈیا ذمہ داری کہاں سے شروع ہوتی ہے اور ان کی ذاتی زندگی یا تفریحی مواد شیئر کرنے کی آزادی کہاں تک برقرار رہتی ہے۔

فی الحال ہانیہ عامر کی جانب سے اس تنقید کے حوالے سے کوئی تفصیلی وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم ویڈیو پر ہونے والی بحث نے یہ ضرور واضح کردیا ہے کہ مقبول شخصیات کی سوشل میڈیا پوسٹس، بالخصوص حساس حالات میں، محض تفریح تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان پر عوامی ردعمل بھی تیزی سے سامنے آتا ہے۔