پمز سانحہ: غفلت کے مرتکب کسی شخص کو نہیں چھوڑیں گے، مصطفیٰ کمال،ہر نومولود کے خاندان کیلئے50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان
اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت کے سانحے پر ذمہ داروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ غفلت کا مرتکب کوئی بھی شخص تحقیقات میں نہیں بچے گا۔
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ وہ بحیثیت وزیر صحت سانحے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور خود کو احتساب کے لیے پیش کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے کسی نتیجے پر پہنچنے کے بجائے شواہد کا انتظار کیا جائے، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی اپنی رپورٹ آج رات پیش کرے گی۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق تحقیقات میں ڈیجیٹل شواہد، ویڈیوز اور عینی شاہدین کے بیانات کو شامل کیا جائے گا اور ذمہ داری کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو بھی شخص غفلت کا ذمہ دار پایا گیا، اسے کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پمز سانحہ کسی صورت دبایا نہیں جائے گا اور تحقیقات مکمل ہونے تک وہ اپنے استعفے کے مطالبات پر کوئی فیصلہ نہیں دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ تحقیقات تسلی بخش نہ ہوئیں تو عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا راستہ بھی موجود ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی اور سینیٹ نے پمز سانحے سے متعلق خصوصی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی تحریکیں منظور کر لی ہیں۔ سینیٹ میں تحریک سینیٹر شیری رحمان جبکہ قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی۔ کمیٹی کی تشکیل، ارکان کی تعداد اور ٹی او آرز کا فیصلہ چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی باہمی مشاورت سے کریں گے۔
وفاقی حکومت نے پمز آتشزدگی میں جاں بحق ہونے والے ہر نومولود کے خاندان کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا بھی اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مالی امداد انسانی جان کا نعم البدل نہیں، تاہم متاثرہ خاندانوں کی مشکلات کم کرنے کی کوشش ہے۔
پمز کے گائنی وارڈ میں 26 اگست کو لگنے والی آگ کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کے بعد صحت سیکریٹری کو معطل کرکے تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی تھی۔
