آبنائے ہرمز میں کشیدگی، ایرانی میڈیا کا اماراتی ٹینکر روکنے کا دعویٰ

اہم خبریںتازہ تریندنیا

 آبنائے ہرمز میں پہلے سے کشیدہ صورتحال کے دوران ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے ایک اماراتی کمپنی سے وابستہ تیل بردار ٹینکر کو روک کر اسے ایرانی بندرگاہ کی جانب روانہ کردیا ہے۔

ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق ٹینکر کو آبنائے ہرمز کے شمالی حصے میں، ایران کے قریب روکا گیا۔ بعد ازاں جہاز کا رخ تبدیل کرکے ایران کی جنوبی بندرگاہ بندر عباس کی طرف کردیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ ٹینکر کی ابتدائی منزل متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ جبل علی تھی، تاہم آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اسے روک لیا گیا۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق جہاز کو ایران کے ساحلی علاقے اور جزیرہ قشم کے قریب روکے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

 ٹینکر کو روکنے کی وجہ

ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں ٹینکر کو روکنے کی مخصوص وجہ واضح طور پر بیان نہیں کی گئی۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں تہران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے اپنے مقرر کردہ راستوں اور اجازت کے طریقہ کار پر زور دیتا رہا ہے۔

اس سے قبل بھی ایرانی میڈیا کی جانب سے کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرنے کے خواہش مند بحری جہازوں کو ایران کی جانب سے مقرر کردہ بحری راستے استعمال کرنے، متعلقہ فیس ادا کرنے اور ایرانی حکام سے اجازت حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

تاہم اس تازہ واقعے کے بارے میں ایرانی یا اماراتی حکومت کی جانب سے فوری طور پر کوئی ایسا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا جس سے ٹینکر کو روکے جانے کی مکمل تفصیلات آزادانہ طور پر واضح ہوسکیں۔ میری ٹائم سکیورٹی سے متعلق Lloyd’s List Intelligence نے بھی اس واقعے کو ایرانی نیم سرکاری میڈیا کی رپورٹ قرار دیتے ہوئے اسے غیر مصدقہ بتایا ہے۔

بندر عباس کی طرف سفر

بعد کی رپورٹس میں بتایا گیا کہ روکے گئے ٹینکر کا رخ تبدیل ہوچکا ہے اور جہاز ایران کی بندرگاہ بندر عباس کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ٹینکر کو پہلے متحدہ عرب امارات کی جانب سفر کرنا تھا، لیکن بعد میں اس کی منزل تبدیل ہوگئی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی شدید متاثر ہے۔ حالیہ دنوں میں جہاز رانی کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ خطے میں ٹینکروں سے متعلق متعدد واقعات نے عالمی توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

ایران اور امارات کے درمیان تناؤ میں اضافہ

اماراتی ٹینکر کو روکے جانے کی یہ رپورٹ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ متحدہ عرب امارات حالیہ دنوں میں اپنے بحری جہازوں کو پیش آنے والے واقعات پر ایران کو ذمہ دار قرار دیتا رہا ہے، جبکہ تہران نے بعض الزامات کو مسترد کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات نے حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کے ساتھ مالی اور اقتصادی لین دین معطل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یہاں پیدا ہونے والی کوئی بھی بڑی رکاوٹ نہ صرف خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات کو متاثر کرسکتی ہے بلکہ عالمی منڈی میں خام تیل، ایل این جی، شپنگ اور انشورنس کے اخراجات پر بھی براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

فی الحال اماراتی ٹینکر کو روکے جانے کی تفصیلات ایرانی میڈیا کی رپورٹس تک محدود ہیں۔ ٹینکر کی شناخت، عملے کی صورتحال اور اسے روکنے کی باضابطہ وجہ کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کی مکمل تصویر واضح ہوسکے گی۔