لیڈز ٹیسٹ میں امام الحق کا بڑا سنگِ میل، 5000 انٹرنیشنل رنز مکمل
پاکستان کے اوپننگ بیٹر امام الحق نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے دوران اپنے بین الاقوامی کیریئر کا ایک اہم سنگِ میل عبور کرلیا، تاہم ان کی یہ کامیابی ٹیم کے لیے ایک مشکل دن میں آئی، جب پاکستان کی پوری ٹیم پہلی اننگز میں صرف 171 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
ہیڈنگلے میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ کے ابتدائی روز امام الحق میدان میں اترنے سے قبل 4996 بین الاقوامی رنز پر موجود تھے۔ انہیں 5000 رنز کا ہندسہ عبور کرنے کے لیے صرف چار رنز درکار تھے۔
بائیں ہاتھ کے بیٹر نے اننگز کے نویں اوور میں انگلینڈ کے فاسٹ بولر اولی رابنسن کی گیند پر باؤنڈری لگا کر یہ مطلوبہ رنز حاصل کرلیے۔ اس کے ساتھ ہی امام الحق 5000 بین الاقوامی رنز مکمل کرنے والے پاکستان کے 30ویں بیٹر بن گئے۔
تینوں فارمیٹس میں رنز کا سفر
امام الحق نے یہ اعزاز تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے حاصل کیا۔ اس سنگِ میل سے قبل ان کے مجموعی رنز میں ٹیسٹ کرکٹ کے 1823، ون ڈے انٹرنیشنلز کے 3152 اور ٹی20 انٹرنیشنلز کے 21 رنز شامل تھے۔
اس فہرست میں پاکستان کے کئی بڑے نام پہلے ہی موجود ہیں، جن میں انضمام الحق، یونس خان، جاوید میانداد اور سابق کپتان عمران خان بھی شامل ہیں۔ امام کے لیے یہ کامیابی اس لحاظ سے بھی نمایاں ہے کہ وہ اب پاکستان کے ان بلے بازوں کے گروپ کا حصہ بن گئے ہیں جنہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 5000 یا اس سے زیادہ رنز بنائے ہیں۔
سنگِ میل کے بعد بھی اننگز جاری رہی
5000 رنز مکمل کرنے کے بعد امام الحق نے اپنی اننگز کو مزید آگے بڑھایا اور عبداللہ شفیق کے ساتھ مل کر پاکستان کی اننگز کو ابتدائی نقصان سے نکالنے کی کوشش کی۔
پاکستان نے میچ کی پہلی گیند پر ہی وکٹ گنوا دی تھی، جس کے بعد امام اور عبداللہ نے ذمہ داری کے ساتھ بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کے لیے 91 رنز کی شراکت قائم کی۔ دونوں نے انگلینڈ کے ابتدائی دباؤ کے باوجود پاکستانی اننگز کو کچھ دیر سنبھالا دیا۔
امام الحق 74 گیندوں پر 42 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کی اننگز میں چھ چوکے شامل تھے۔ جوش ٹونگ نے ان کی وکٹ حاصل کی، جبکہ ہیری بروک نے سلپ میں ایک عمدہ کیچ پکڑ کر اس شراکت کا خاتمہ کیا۔ اس وقت پاکستان کا اسکور 97 رنز تھا۔
عبداللہ شفیق کی مزاحمت بھی کام نہ آئی
امام الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد عبداللہ شفیق نے مزاحمت جاری رکھی اور 61 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔ تاہم ان کے آؤٹ ہونے کے بعد پاکستان کی بیٹنگ ایک بار پھر تیزی سے بکھر گئی۔
پاکستان ایک موقع پر 117 رنز پر تین وکٹوں کے ساتھ نسبتاً بہتر پوزیشن میں تھا، لیکن اس کے بعد انگلینڈ کے بولرز نے مسلسل وکٹیں حاصل کرکے مہمان ٹیم کو 171 رنز تک محدود کردیا۔
انگلینڈ کی جانب سے اولی رابنسن اور جوش ٹونگ نے پاکستانی بیٹنگ لائن کو شدید مشکلات سے دوچار کیا اور دونوں نے پانچ، پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ رابنسن نے 5/51 جبکہ ٹونگ نے 5/46 کے اعداد و شمار کے ساتھ اننگز مکمل کی۔
ذاتی کامیابی، مگر ٹیم کے لیے مشکل آغاز
امام الحق کے لیے 5000 بین الاقوامی رنز کا سنگِ میل یقیناً ان کے کیریئر کی اہم کامیابیوں میں شامل ہوگیا، لیکن پاکستان کے لیے لیڈز ٹیسٹ کا پہلا دن مجموعی طور پر مایوس کن رہا۔
171 رنز پر آل آؤٹ ہونے کے بعد انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز شروع کی اور دن کے اختتام تک 112 رنز پر دو وکٹیں گنوا کر پاکستان کے مجموعے سے صرف 59 رنز پیچھے تھا۔ انگلینڈ کی جانب سے جو روٹ 37 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے، جبکہ ڈیبیو کرنے والے جارڈن کاکس 23 رنز پر ان کے ساتھ موجود تھے۔
یوں امام الحق کے لیے لیڈز کا دن دو مختلف حوالوں سے یادگار بن گیا: ایک طرف انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ میں 5000 رنز کا اعزاز اپنے نام کیا، جبکہ دوسری طرف ان کی ٹیم کو انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں واپسی کے لیے دوسرے دن ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔
