ایران کے وزیر خارجہ عراقچی کا فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ، خطے کی صورتحال اور سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیا

 ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ سمیت خطے میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور جاری سفارتی سرگرمیوں پر بات چیت کی گئی۔

ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں شخصیات کے درمیان ہونے والی گفتگو میں حالیہ علاقائی پیش رفت، موجودہ صورتحال کے مختلف پہلوؤں اور سیاسی و سفارتی سطح پر جاری کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔ فریقین نے علاقائی معاملات پر باہمی مشاورت اور رابطہ مزید مؤثر بنانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

رپورٹس کے مطابق رابطے کے دوران اس بات پر بھی گفتگو ہوئی کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے اور پیچیدہ معاملات کے حل کے لیے سیاسی و سفارتی راستوں کو آگے بڑھانے کی کوششیں کس طرح مؤثر بنائی جاسکتی ہیں۔ تاہم دونوں جانب سے اس گفتگو کی مزید تفصیلی یا مخصوص ترجیحات فی الحال سامنے نہیں لائی گئیں۔

یہ ٹیلی فونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث پورا خطہ غیر معمولی سفارتی دباؤ سے گزر رہا ہے اور کئی ممالک مذاکرات اور سیاسی حل کے لیے مختلف سطحوں پر رابطے کررہے ہیں۔ پاکستان بھی حالیہ ہفتوں میں خطے میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے کے لیے سفارتی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستانی اور ایرانی حکام کے درمیان حالیہ رابطوں کا سلسلہ بھی اسی وسیع سفارتی تناظر میں دیکھا جارہا ہے۔ اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کے اہم حکام سے مختلف مواقع پر رابطے کیے، جبکہ اسلام آباد کی جانب سے بھی علاقائی امن، استحکام اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کی حالیہ سفارتی کوششوں میں ایران، امریکا اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے اور ایسے امکانات تلاش کرنا شامل ہے جن کے ذریعے کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ اسلام آباد نے متعدد مواقع پر اس مؤقف کا اظہار کیا ہے کہ مسائل کا پائیدار حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ایران اور پاکستان کے درمیان مسلسل مشاورت

عراقچی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا تازہ رابطہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کی مشاورت کے تسلسل کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ ایران اور پاکستان کے تعلقات میں علاقائی سلامتی ایک اہم موضوع ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات تجارت، توانائی اور سمندری آمدورفت تک محسوس کیے جارہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستانی حکام کے ایرانی قیادت سے روابط میں بھی علاقائی سلامتی، استحکام اور تعمیری سفارتی رابطوں پر توجہ رہی ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی رواں ماہ ایران کا دورہ کیا، جہاں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور دیگر حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی سمیت اہم امور زیر بحث آئے۔

دوسری جانب ایران کی جانب سے بھی خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ رابطے بڑھائے جارہے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے حالیہ عرصے میں سعودی عرب، پاکستان اور عراق کے اعلیٰ حکام سے فون پر بات چیت کی، جن میں علاقائی سلامتی اور سیاسی رابطہ کاری پر زور دیا گیا۔

سفارتی راستہ اب بھی اہم

تازہ رابطے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے امکانات کے بارے میں ابھی تک صورتحال غیر یقینی ہے۔ عباس عراقچی اس سے قبل واضح کرچکے ہیں کہ بعض ممالک، جن میں پاکستان اور قطر بھی شامل ہیں، پیغامات کے تبادلے میں کردار ادا کررہے ہیں، تاہم محض رابطوں کو باقاعدہ مذاکرات سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا۔

ایسے ماحول میں اسلام آباد اور تہران کے درمیان اعلیٰ سطحی مشاورت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ دونوں ممالک علاقائی صورتحال پر براہِ راست رابطہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ تازہ فون کال میں بھی سیاسی اور سفارتی حل کی کوششوں پر توجہ اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود مذاکرات اور رابطے کے راستے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔

فی الحال فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی گفتگو کے نتیجے میں کسی نئے معاہدے، فیصلے یا عملی اقدام کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان مسلسل رابطے خطے کی بدلتی صورتحال میں پاکستان اور ایران کی سفارتی مشاورت کی اہمیت کو ضرور اجاگر کرتے ہیں۔