مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی ، خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی

تازہ تریندنیاکاروبار

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور امریکا و ایران کے درمیان سفارتی پیش رفت رکنے کے خدشات نے عالمی توانائی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل اوپر جا رہی ہیں۔  تازہ کاروباری صورتحال میں برینٹ خام تیل کی قیمت 91 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی،

جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی 85 ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ 18 اگست کی مارکیٹ اپ ڈیٹ کے مطابق برینٹ تقریباً 91.76 ڈالر فی بیرل جبکہ WTI 85.55 ڈالر پر پہنچ گیا تھا۔  تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع، مذاکرات میں تعطل اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو درپیش خطرات قرار دیے جا رہے ہیں۔

دنیا کی اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہونے والی یہ آبنائے عالمی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے یہاں معمولی رکاوٹ بھی عالمی منڈی میں فوری ردعمل پیدا کرتی ہے۔

کشیدگی مزید طویل ہونے کا امکان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ جون میں طے پانے والے عارضی معاہدے کی مدت میں توسیع ان کی ترجیح نہیں، جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر سمجھوتے کی کوششیں بھی تاحال کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکیں۔ اس صورتحال نے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھا دیے ہیں کہ خطے میں کشیدگی مزید طویل ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں پر اس وقت بنیادی دباؤ صرف جنگی صورتحال کا نہیں بلکہ بحری راستوں، ٹینکرز کی آمدورفت اور خلیجی سپلائی کے مستقبل سے جڑے خدشات کا بھی ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمی محدود رہنے کی صورت میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزید اتار چڑھاؤ کا شکار ہوسکتی ہیں۔

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق رابطے

ادھر ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر لانے سے متعلق رابطے جاری ہیں، تاہم امریکا کی جانب سے عمان کے کردار پر سخت ردعمل نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔

عالمی منڈی پر نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی رابطے دوبارہ کسی قابلِ عمل معاہدے کی طرف بڑھتے ہیں یا کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں کسی بھی نئی پیش رفت کا براہِ راست اثر خام تیل کی قیمتوں اور عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑ سکتا ہے۔