آبنائے ہرمز کو بہت جلد امریکی علاقہ قرار دوں گا ، ٹرمپ، صدر کا بیان مذاق تھا:وائٹ ہاؤس

اہم خبریںتازہ تریندنیا

واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کے بیان نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ٹرمپ نے نیویارک میں ایک جلسے کے دوران کہا کہ ایران کو مکمل شکست دینے کے بعد وہ آبنائے ہرمز کو ’’امریکی علاقہ‘‘ قرار دیں گے۔ تاہم وائٹ ہاؤس نے بعد ازاں واضح کیا کہ صدر کا یہ تبصرہ سنجیدہ پالیسی اعلان نہیں بلکہ مذاق اور طنزیہ انداز میں کیا گیا بیان تھا۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایران کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تہران کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور امریکا جلد ایران کو مکمل طور پر شکست دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایک بڑا فیصلہ کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی وضاحت

صدر ٹرمپ کے بیان کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کی حیثیت اور امریکا کے ممکنہ عزائم کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز کو امریکی حدود میں شامل کرنے سے متعلق حکومت کے اندر کوئی باقاعدہ منصوبہ یا مشاورت نہیں ہو رہی۔

اہلکار کے مطابق ٹرمپ نے یہ بات اپنی تقریر کے دوران مزاحیہ انداز میں کہی تھی، اس لیے اسے کسی نئے امریکی پالیسی فیصلے یا عملی منصوبے کا اعلان نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

آبنائے ہرمز اتنا اہم کیوں ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی یہ تنگ آبی گزرگاہ عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

علاقے میں کشیدگی بڑھنے یا اس راستے کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی بڑے بیان کو عالمی سطح پر خاص اہمیت دی جاتی ہے۔

ٹرمپ نے فاکس نیوز سے گفتگو میں بھی ایران پر مزید اقتصادی دباؤ ڈالنے کی تیاری کا عندیہ دیا اور کہا کہ امریکا تہران کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے سخت معاشی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

ایران کا سخت ردعمل

ٹرمپ کے بیان پر ایران نے بھی فوری اور واضح ردعمل دیا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے امریکی صدر کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران دھمکیوں اور طاقت کے مظاہرے سے خوف زدہ نہیں ہوگا۔

غریب آبادی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز پر نہ کسی ٹوئٹ کے ذریعے قبضہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی طیارہ بردار بحری جہاز کے ذریعے۔

ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’’آبنائے ہرمز ایرانی تھا، ایرانی ہے اور ایرانی ہی رہے گا۔‘‘

انہوں نے امریکا پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کو اب تک ایک بڑی تزویراتی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کے معاملے میں فیصلہ کن اختیار ایران کے پاس ہے۔