کراچی کی عدالت نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو 3 مقدمات میں بری کردیا
گِزری تھانے میں 2020، 2021 اور 2022 میں درج منشیات کے مقدمات میں بریت کی درخواستیں منظور
کراچی: کراچی کی سیشن عدالت نے مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی کو گِزری تھانے میں درج منشیات کے 3 مقدمات میں بری کردیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی ارشاد حسین نے انمول پنکی کی جانب سے دائر بریت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ مذکورہ تینوں مقدمات بالترتیب 2020، 2021 اور 2022 میں گِزری تھانے میں درج کیے گئے تھے، جبکہ انمول کو ان مقدمات میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران انمول پنکی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی موکلہ کو مقدمات میں شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر نامزد کیا گیا، تاہم بعد ازاں ان شریک ملزمان کو بھی عدالت سے بری کردیا گیا۔
وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ جب مقدمات میں نامزد شریک ملزمان بری ہوچکے ہیں تو انمول پنکی کے خلاف بھی سزا کا مقدمہ برقرار نہیں رہتا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق 2021 کے ایک مقدمے میں منشیات رکھنے کے الزام میں گرفتار 2 ملزمان نے تفتیش کے دوران انمول پنکی کا نام لیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ منشیات انہیں انمول نے فراہم کی تھی۔
پنکی کے خلاف ایک درجن سے زائد مقدمات کا انکشاف
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے جمع کرائی گئی ضمنی چالان رپورٹ میں انمول عرف پنکی کے خلاف ایک درجن سے زائد مقدمات درج ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔
انمول کو رواں سال مئی میں گارڈن تھانے میں درج 2 مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مقدمات میں منشیات رکھنے اور بغیر لائسنس اسلحہ رکھنے کے الزامات شامل تھے۔
ان کی گرفتاری سے قبل بھی ان کے خلاف متعدد دیگر فوجداری مقدمات درج کیے جاچکے تھے۔
عدالت میں پیشی کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی
انمول پنکی اس وقت بھی خبروں کی زینت بنی تھیں جب عدالت میں پیشی کے دوران انہیں ہتھکڑی کے بغیر پولیس کی تحویل میں لے جانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی۔
گرفتاری کے بعد انمول کو سخت پولیس سکیورٹی میں مختلف مقدمات کی سماعت کے لیے عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا۔
عدالتی کارروائی کے دوران انمول نے پولیس پر الزام بھی عائد کیا تھا کہ ان پر سیاست دانوں اور بااثر شخصیات کے نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ عدالت نے گِزری تھانے میں درج مذکورہ 3 مقدمات میں انمول عرف پنکی کو بری کیا ہے، جبکہ ان کے خلاف دیگر مقدمات کی صورتحال اس فیصلے سے الگ ہے۔
