نئے صوبوں کا معاملہ ایجنڈے پر نہیں، یہی نظام کامیاب ہے اور آئندہ بھی کامیاب ہوگا: رانا ثنا اللہ
1973 کے آئین اور پارلیمانی جمہوری نظام میں کوئی کمی نہیں، خرابی نظام میں نہیں بلکہ اس پر عمل نہ کرنے والوں میں ہے، آزاد کشمیر میں ن لیگ اپنی حکومت بنائے گی
اسلام آباد : وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق جاری بحث پر واضح کیا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی معاملہ مسلم لیگ (ن) کے ایجنڈے پر نہیں، 1973 کا آئین اور موجودہ پارلیمانی جمہوری نظام کامیاب ہے اور آئندہ بھی کامیاب رہے گا۔
ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا ایسا کوئی اجلاس نہیں ہوا جس میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کوئی واضح پالیسی یا مؤقف اختیار کیا گیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں سے متعلق کوئی بات اس وقت ایجنڈے پر نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوری نظام اور 1973 کے آئین میں کوئی بنیادی خامی نہیں۔ گزشتہ 50 سے 60 سال کے دوران ملک کو مختلف بحرانوں، مارشل لا اور آمرانہ ادوار کا سامنا کرنا پڑا، اس کے باوجود آئین نے ملک اور وفاق کو جوڑے رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ "کمی اس نظام میں نہیں، کمی ہم میں ہے کہ ہم نے آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا۔” اگر آئین اور موجودہ نظام پر دیانت داری اور سچائی کے ساتھ عمل کیا جائے تو یہی نظام عوام کو نتائج دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب آئین کی خلاف ورزی کی جائے اور دوسری جانب نظام سے بہتر نتائج کی توقع رکھی جائے تو ایسا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق یہی آئین اور یہی نظام نصف صدی سے ملک کو سنبھالتا آیا ہے اور مستقبل میں بھی کامیاب رہے گا۔
آزاد کشمیر میں اتحادی نہیں، اپنی حکومت بنائیں گے
آزاد کشمیر کے انتخابات پر گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے انتخابی عمل کو شفاف قرار دیا اور کہا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں کسی اتحادی حکومت کے بجائے اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی وجہ سے آزاد کشمیر کے عوام نے مسلم لیگ (ن) پر اعتماد کیا۔ ان کے مطابق انتخابات کے آئندہ مرحلے کی 10 نشستوں میں سے ن لیگ 7 نشستیں جیتنے کی توقع رکھتی ہے۔
رانا ثنا اللہ نے پیپلز پارٹی کے انتخابی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کو بھی معلوم ہے کہ انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوئے ہیں۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ انتخابات کے تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد پیپلز پارٹی بھی نتائج کو تسلیم کرلے گی۔
