نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، محسن نقوی کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں: مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیر صحت کا ملتان میں خطاب، کہا نئے انتظامی یونٹس سے کراچی سمیت ملک کے کئی مسائل حل ہوں گے، پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ناکافی ہو چکا ہے
ملتان : وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے مؤقف کی حمایت کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے ناکافی ہو چکا ہے، اس لیے مزید انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ملتان میں ایک تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ "محسن نقوی صاحب کے نئے صوبوں سے متعلق مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ نئے انتظامی یونٹس بننے سے نہ صرف کراچی بلکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں کے مسائل کے حل میں بھی مدد ملے گی۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے 180 سے زائد ممالک سے بڑا ملک ہے، مگر موجودہ انتظامی نظام اس حجم اور آبادی کے تقاضے پورے نہیں کر پا رہا۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ ملک میں مایوسی کی فضا ضرور موجود ہے، تاہم مثبت سوچ اور عملی اقدامات سے اس کا خاتمہ ممکن ہے۔ انہوں نے ملتان یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے قیام کو ایک مثبت مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اچھے منصوبے کی ابتدا آئندہ نسلوں کے لیے نئے راستے کھولتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کا نظام صرف اسپتال بنانے یا مریضوں کا علاج کرنے کا نام نہیں بلکہ لوگوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھنا اصل ہیلتھ کیئر ہے۔ ان کے مطابق بچوں کی بروقت ویکسینیشن، صاف پانی کی فراہمی، بہتر سیوریج نظام اور احتیاطی تدابیر صحت مند معاشرے کی بنیاد ہیں۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں 68 فیصد بچے پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کے خطرے سے دوچار ہیں، سالانہ تقریباً 11 ہزار مائیں دورانِ حمل یا زچگی جان کی بازی ہار جاتی ہیں، جبکہ 4 لاکھ بچے مختلف قابلِ علاج بیماریوں کے باعث انتقال کر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اموات کو مؤثر حکمت عملی کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک میں ایک کروڑ دس لاکھ افراد ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہیں، جبکہ ہر تیسرا پاکستانی شوگر میں مبتلا ہے اور ہر ایک منٹ بعد ایک شخص دل کے امراض کے باعث جان کی بازی ہار جاتا ہے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ صاف پانی کی فراہمی، آبادی میں توازن، سیوریج سسٹم کی بہتری اور بنیادی صحت کی سہولتوں کی فراہمی تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق جب تک کونسلر سے لے کر وزیراعظم تک تمام ادارے ایک ہی سمت میں کام نہیں کریں گے، صحت کے شعبے میں بنیادی تبدیلی ممکن نہیں۔
ادویات کی قیمتوں سے متعلق سوال پر سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی وفاقی وزیر صحت کا اختیار نہیں بلکہ یہ فیصلہ وفاقی کابینہ کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر رکھی ہے، جبکہ ڈریپ نے چند ادویات کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ادویات تیار تو کی جاتی ہیں، تاہم خام مال بیرونِ ملک سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ اس سلسلے میں اسلام آباد میں منعقدہ بی ٹو بی کانفرنس میں 659 ملین ڈالر کے معاہدے کیے گئے ہیں تاکہ خام مال پاکستان میں تیار کیا جا سکے اور ادویات کی دستیابی بہتر بنائی جا سکے۔
وفاقی وزیر نے اعتراف کیا کہ بعض ادویات مارکیٹ سے غائب ہو جاتی ہیں، جس کے باعث مریضوں کو وہی ادویات ایجنٹوں سے مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت ادویات کی دستیابی بہتر بنانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
آخر میں انہوں نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین بدستور خالد مقبول صدیقی ہیں اور پارٹی اپنی قیادت کے ساتھ متحد ہے۔
