آزاد کشمیر انتخابات: پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق، انتخابی تنازع مذاکرات سے حل کرنے کا فیصلہ

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد / مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر کے جاری انتخابی عمل کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کے سینئر رہنماؤں نے مظفرآباد میں اہم ملاقات کی، جس میں انتخابی تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے اور باقی مراحل کو پرامن انداز میں مکمل کرانے پر اتفاق کیا گیا۔

یہ ملاقات میرپور کے انتخابی نتائج کے بعد دونوں جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات کے تبادلے کے پس منظر میں ہوئی۔ ذرائع کے مطابق اس ملاقات کا مقصد انتخابی تنازع کو وفاقی حکومت میں دونوں اتحادی جماعتوں کے تعلقات پر اثر انداز ہونے سے روکنا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات وفاقی سطح پر ہونے والی مشاورت کے بعد طے پائی، تاہم یہ دعویٰ کہ اس اقدام کو ایوانِ صدر اور وزیراعظم آفس کی تائید حاصل تھی، آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکا۔

ملاقات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے قمر زمان کائرہ، ندیم افضل چن، وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور نیئر بخاری جبکہ مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی رانا ثناء اللہ اور امیر مقام نے کی۔

ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی مہم اور میرپور کے نتائج کے بعد سامنے آنے والے بیانات پر ایک دوسرے کے تحفظات کھل کر بیان کیے۔ مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی سے مبینہ منظم انتخابی دھاندلی کے الزامات کے شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر پیپلز پارٹی نے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے اعتراضات صرف حلقہ ایل اے-5، ایل اے-9، ایل اے-11 اور ایل اے-12 تک محدود ہیں، جہاں ان کے مطابق سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اس مؤقف کو اس بات کا اشارہ قرار دیا کہ پیپلز پارٹی نے دیگر نو حلقوں کے نتائج کو عملاً تسلیم کر لیا ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) نے پانچ جبکہ پیپلز پارٹی نے چار نشستیں حاصل کیں۔

ملاقات کے دوران دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ سیاسی محاذ آرائی کو مزید نہیں بڑھایا جائے گا تاکہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے باقی مراحل متاثر نہ ہوں۔

اجلاس میں مظفرآباد سمیت باقی ماندہ حلقوں میں پولنگ کے دوران سیکیورٹی انتظامات پر بھی اتفاق رائے ہوا۔ ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں نے اس بات کی حمایت کی کہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور اطراف میں کسی بھی شخص کو اسلحہ لے جانے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ پرامن، منصفانہ اور شفاف انتخابی عمل کو یقینی بنایا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ملاقات دونوں اتحادی جماعتوں کی جانب سے انتخابی تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے اور وفاقی سطح پر اتحاد کو برقرار رکھنے کی ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے، تاہم متنازع حلقوں کے حوالے سے اختلافات تاحال برقرار ہیں۔