5G اسپیکٹرم نیلامی کے لیے ہوم ورک مکمل، پاکستان میں پہلی بار جدید بینڈز متعارف، وفاقی وزیر آئی ٹی
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں 5G سمیت ٹیلی کام اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اسپیکٹرم ایکشن کے لیے ایک جامع اور عملی منصوبہ تیار کیا ہے، جو وزارتِ خزانہ، اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) اور بین الاقوامی کنسلٹنٹس کی سفارشات کی روشنی میں ترتیب دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس منصوبے کے تحت سات مختلف اسپیکٹرم بینڈز میں نیلامی یا الاٹمنٹ کی جائے گی، جن میں سے پانچ بینڈز پاکستان میں پہلی مرتبہ متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ ان بینڈز کو عالمی سطح پر جدید ٹیکنالوجی کے مطابق استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان میں اب تک یہ دستیاب نہیں تھے۔
ذرائع کے مطابق وزارتِ خزانہ کی مکمل معاونت، اسپیکٹرم ایکشن کمیٹی اور ای سی سی کے باہمی اشتراک سے اس منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔ پی ٹی اے نے تمام قانونی تقاضے، لائسنسنگ فریم ورک اور کنڈیشنز کو ریگولیٹ کرتے ہوئے عملدرآمد کو مؤثر بنانے کے لیے بھرپور محنت کی۔
اسپیکٹرم ایکشن پلان کی تیاری میں امریکا میں قائم بین الاقوامی کنسلٹنٹ نیرا (NERA) کی سفارشات کو بنیادی حیثیت حاصل رہی، جنہیں ای سی سی میں آزاد کنسلٹنٹ کی رائے کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسپیکٹرم ایکشن کمیٹی نے ابتدائی جائزے کے بعد یہ سفارشات ای سی سی کو بھجوائیں، جہاں منظوری کے بعد انہیں وفاقی کابینہ کے سامنے رکھا گیا۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ مذکورہ کنسلٹنٹ کو عالمی ٹیلی کام سیکٹر میں وسیع تجربہ حاصل ہے اور وہ دنیا بھر میں ہونے والی تقریباً 75 فیصد اسپیکٹرم نیلامیوں میں مشاورت فراہم کر چکے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی بینچ مارکنگ کے ذریعے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجیز، قیمتوں کے تعین، ڈیجیٹل رجحانات اور انٹرنیٹ سروسز کا تفصیلی تجزیہ کیا۔
پاکستان میں مجوزہ اسپیکٹرم نیلامی 300، 600، 700، 1800، 2100 میگا ہرٹز سمیت سات بینڈز پر مشتمل ہوگی۔ ان میں سے صرف دو بینڈز پہلے ملک میں استعمال ہو چکے ہیں، جبکہ باقی پانچ بینڈز پہلی بار پاکستان میں متعارف کرائے جا رہے ہیں۔
شزا فاطمہ خواجہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ٹیلی کام سیکٹر میں شفافیت، بین الاقوامی معیار اور جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے فروغ کو یقینی بنایا جائے گا، جس کا براہِ راست فائدہ صارفین کو تیز رفتار اور بہتر سروسز کی صورت میں ملے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی کابینہ نے موبائل ورچوئل نیٹ ورک آپریٹرز (MVNOs) کی پالیسی کی بھی توثیق کر دی ہے، جس کے تحت مختلف کمپنیاں اپنے برانڈ اور لائسنس کے ذریعے پاکستان میں موبائل سروسز فراہم کر سکیں گی۔ اس پالیسی سے مسابقت میں اضافہ، قیمتوں میں کمی اور مجموعی طور پر ٹیلی کام انڈسٹری کی بہتری متوقع ہے۔
