غزہ: نئے سال کے آغاز پر لوگوں کی امید امن اور تعمیرنو

اہم خبریںتازہ تریندنیایو این خبرنامہ

[ad_1]

ان کے الفاظ ان ہزاروں خاندانوں کے مشترکہ احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں جو نئے سال کا آغاز اس حال میں کر رہے ہیں کہ ان کی زندگیاں عارضی خیموں اور تباہ شدہ گھروں کے ملبے کے درمیان معلق ہیں۔

موسم سرما کی آمد اور بارشوں کے نتیجے میں غزہ شہر کے وسطی اور شمالی علاقوں میں رہنے والے بے گھر افراد کے کیمپوں میں زندگی مزید دشوار ہو گئی ہے۔ خیموں کی بھیڑ، تباہ شدہ عمارتوں اور کیچڑ کے باعث روزمرہ آمدورفت میں رکاوٹ رہتی ہے جبکہ لوگ ایسی زندگی سے ہم آہنگ ہونے کی جدوجہد کر رہے ہیں جس میں انہیں تحفظ اور استحکام جیسی کوئی شے میسر نہیں۔

ام ربیع نے غزہ کی جنگ میں بہت کچھ کھو دیا ہے لیکن وہ اپنی ذاتی تکلیف سے آگے بڑھ کر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ لوگوں کو غزہ کی تعمیر نو میں مدد مہیا کی جائے، امن قائم کیا جائے اور ایک ایسی ریاست تشکیل پائے جہاں سبھی امن و سلامتی سے رہ سکیں۔

بحالی کی امید

اسی جگہ رہنے والی وفا الخواجہ موجودہ صورت حال پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ کاش غزہ کے لوگ بھی دیگر دنیا کی طرح پرامن زندگی گزار سکیں۔ ان کے پاس کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ نہ بچوں کو تعلیم میسر ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات اور خدمات وجود رکھتی ہیں۔

شمالی غزہ کے ایک اور کیمپ میں کمال ابو حشیش اپنے خیمے کے سامنے کھڑے ماضی کی اس زندگی کو یاد کرتے ہیں جو اچانک ختم ہو گئی۔ ان کی واحد خواہش یہ ہے کہ حالات جنگ سے پہلے جیسے ہو جائیں، کیونکہ کیمپوں میں ہزاروں خاندان نہایت مشکل انسانی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہیں امید ہے کہ وہ جنگ سے پہلے والی زندگی کی طرف لوٹ سکیں گے اور بہتر حالت میں ہوں گے۔

media:entermedia_image:9999fc5b-1768-4ba8-9a30-64027c2350d7 

امن و استحکام کی خواہش

مکرمہ احمد جنگ میں ہونے والے نقصانات کا ذکر کرتی ہیں مگر ان کی امیدوں نے بھی دم نہیں توڑا۔ وہ امید کرتی ہیں کہ خدا انہیں تباہ ہونے والے گھر کا صلہ عطا کرے گا۔ لوگوں نے اپنے بچوں کو کھو دیا اور ہزاروں زخمی ہو گئے مگر اس حال میں بھی وہ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں۔

خیموں کے درمیان سانتا کلاز کا لباس پہنے ایک ننھی بچی تنگ راستوں میں دوڑتی پھرتی ہے۔ قریب ہی ایک معمر خاتون نعامہ الخواجہ اپنے نواسے یا نواسی کو گود میں لیے خیمے کے سامنے بیٹھی ہیں اور آئندہ سال کے لیے اس خواہش کا اظہار کرتی ہیں کہ انہیں وہ علاج مل جائے جس کی انہیں ضرورت ہے اور ان کا خاندان بہتر دن دیکھ سکے۔

ایک خیمے میں مقیم اکرم غزہ میں حقیقی تبدیلی کی امید ظاہر کرتے ہیں جو اس اذیت کا خاتمہ کر دے گی۔ انہیں امید ہے کہ 2026 گزشتہ سال سے بہتر ہوگا جس میں جنگیں اور تکالیف ختم ہو جائیں گی۔

غزہ شہر کی گلیاں یہاں کے باسیوں کی اذیت ناک زندگی کی گواہ ہیں لیکن یہاں نئے سال سے وابستہ امید بھی پرورش پا رہی ہے۔ ان کی سادہ سی خواہش ہے کہ وہ محفوظ زندگی گزار سکیں اور مہینوں کی بے گھری اور غیر یقینی کے بعد دوبارہ استحکام حاصل کریں۔

[ad_2]

Source link