ایف بی آر ہراساں کرنا بند کرے ورنہ سخت لائحہ عمل اختیار کریں گے،پی ایم اے
ملتان: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) ملتان کے صدر ڈاکٹر مسعود ہراج نے کہا ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے پرائیویٹ ہسپتالوں اور ڈاکٹرز کو بلاجواز ہراساں کیا جا رہا ہے، جو کہ سراسر ورک پلیس ہراسمنٹ کے زمرے میں آتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں دیگر عہدیداران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔
ڈاکٹر مسعود ہراج کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب میں پرائیویٹ ہسپتال محدود وسائل کے باوجود سرکاری ہسپتالوں کا بوجھ کم کر رہے ہیں اور مریضوں کی بڑی تعداد کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود ایف بی آر کے اہلکار مختلف ہسپتالوں اور کلینکس میں جا کر نہ صرف ڈاکٹرز بلکہ مریضوں کو بھی ہراساں کر رہے ہیں، حتیٰ کہ مریضوں کے کمروں میں داخل ہو کر سوالات کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کا یہ مطالبہ کہ اگر سو مریض آئے ہیں تو سو مریضوں کا ٹیکس دیا جائے، حقیقت پسندانہ نہیں۔ سو میں سے کئی مریض ایسے ہوتے ہیں جو تعلقات یا ہمدردی کی بنیاد پر مفت چیک اپ کے لیے آتے ہیں۔ ڈاکٹر مسعود ہراج کے مطابق پرائیویٹ ہسپتال پہلے ہی خسارے میں کام کر رہے ہیں، تاہم اگر کہیں ٹیکس کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، نہ کہ ہراسانی کا راستہ اختیار کیا جائے۔
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ جو آپریشن ملتان کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں 80 سے 90 ہزار روپے میں کیے جاتے ہیں، وہی آپریشن لاہور سمیت بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں 5 سے 6 لاکھ روپے میں ہوتے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہاں مریضوں کو کم لاگت میں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر مسعود ہراج نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ کسی بھی پرائیویٹ ہسپتال یا کلینک پر ایف بی آر نے چھاپہ مارا تو ڈاکٹرز ایف بی آر کے دفاتر کے باہر احتجاج اور دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایف بی آر باز نہ آیا تو پرائیویٹ ہسپتالوں اور کلینکس میں کام بند کرنے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت مریضوں کا تقریباً 70 فیصد بوجھ پرائیویٹ ہسپتال اٹھا رہے ہیں جبکہ صرف 30 فیصد مریض سرکاری ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ سرکاری شعبے کی صورتحال بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نشتر ہسپتال ٹو میں 60 وینٹی لیٹرز موجود ہیں لیکن انہیں چلانے کے لیے ایک بھی تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں، جبکہ آج تک ایک بھی آپریشن تھیٹر اسسٹنٹ تعینات نہیں کیا گیا۔
آخر میں ڈاکٹر مسعود ہراج نے کہا کہ پی ایم اے کی کوشش ہے کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہوں اور حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہ پہنچیں، تاہم اگر ہراسانی کا سلسلہ بند نہ ہوا تو ڈاکٹر برادری سخت لائحہ عمل اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
