فرنٹیئر کانسٹیبلری کو ملک گیر فیڈرل فورس میں تبدیل کرنے کا صدارتی آرڈیننس جاری

اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

اسلام آباد: صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے فرنٹیئر کانسٹیبلری ری آرگنائزیشن آرڈیننس 2025ء جاری کر دیا ہے، جس کے تحت ایف سی کو نئی شناخت "فیڈرل کانسٹیبلری” کے طور پر دے دی گئی ہے، اور اس کے اختیارات کو ملک بھر میں وسعت دی گئی ہے۔

اس نئے قانونی ڈھانچے کے تحت، فیڈرل کانسٹیبلری اب چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قانون نافذ کرنے کے اختیارات کے ساتھ کام کرے گی۔ آرڈیننس کے مطابق، ایف سی کی کمان پولیس سروس آف پاکستان کے افسران کے ہاتھ میں ہوگی جبکہ فورس کا انسپکٹر جنرل وفاقی حکومت تعینات کرے گی۔

ہر ڈویژن میں ڈپٹی انسپکٹر جنرل کے مساوی رینک رکھنے والا ونگ کمانڈر تعینات کیا جائے گا۔ فورس کو ملک گیر سطح پر بھرتی کے لیے دفاتر کھولنے کی اجازت ہوگی، اور اس کی تنظیم نو دو بڑے شعبوں پر مشتمل ہوگی: سیکیورٹی ڈویژن اور فیڈرل ریزرو ڈویژن۔

فیڈرل کانسٹیبلری کی بنیادی ذمے داریوں میں داخلی سلامتی، فسادات پر قابو پانا، انسداد دہشت گردی، اور اہم تنصیبات کی حفاظت شامل ہوگی۔ وفاقی حکومت، حسب ضرورت، اسے ریزرو فورس کے طور پر اسلام آباد پولیس، صوبائی فورسز یا دیگر اداروں کی معاونت کے لیے استعمال کر سکے گی۔

نئے آرڈیننس کے مطابق، فیڈرل کانسٹیبلری کو انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء، ضابطہ فوجداری 1898ء، اور پولیس آرڈر 2002ء سمیت دیگر قوانین کے تحت وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔ ہر رکن قانون کے مطابق احکامات کی تعمیل، گرفتاری، اور ملزمان کی حوالگی کا پابند ہوگا۔ وفاقی حکومت کسی بھی رکن کو کسی بھی قانون کے تحت پولیس افسر کے اختیارات تفویض کر سکتی ہے۔

یہ آرڈیننس فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مربوط کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔