ایران نے عالمی جوہری توانائی ادارے سے تعاون روکنے کا قانون نافذ کردیا

اہم خبریںدنیا

ایران نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے ساتھ تعاون معطل کرنے کا باقاعدہ فیصلہ کرلیا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانون کو نافذ کرتے ہوئے آئی اے ای اے سے ہر قسم کے تعاون کی معطلی کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں کیا گیا ہے، جس کے بعد ایران نے جوہری نگرانی کے بین الاقوامی نظام سے خود کو جزوی طور پر الگ کر لیا ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، یہ قانون گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت سے منظور ہوا، جسے ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی توثیق کر دیا تھا۔ صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے اس قانون پر دستخط کے بعد اب یہ باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے۔

جوہری تنصیبات میں داخلہ بند

قانون کے تحت، ایران اب آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو اپنی جوہری تنصیبات میں داخلے کی اجازت نہیں دے گا جب تک اس کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک آئی اے ای اے اپنے رویے میں "پیشہ ورانہ غیرجانبداری” اختیار نہیں کرتا، تب تک تعاون معطل رہے گا۔

رافیل گروسی کے ویزے پر بھی سوالیہ نشان

ایرانی پارلیمنٹ اس وقت ایک ایسے بل پر بھی کام کر رہی ہے جس کے تحت آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی کے ایران میں داخلے پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اس معاملے پر سینئر ایرانی پارلیمانی رکن نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے سپریم کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گروسی کے ایران آمد پر مکمل پابندی عائد کرے۔"

پارلیمانی مؤقف

ایرانی پارلیمنٹ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ تنازع کے بعد، آئی اے ای اے نے جس قسم کا یک طرفہ اور سیاسی رویہ اپنایا ہے، وہ قابل قبول نہیں۔ اس لیے ایران کو مجبوراً اپنے قومی مفاد میں یہ قدم اٹھانا پڑا ہے۔

عالمی ردعمل کا انتظار

ایران کے اس فیصلے پر تاحال آئی اے ای اے یا مغربی طاقتوں کا کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم عالمی سطح پر اسے جوہری معاہدے (JCPOA) کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ عالمی جوہری معاہدوں اور سلامتی کے توازن پر براہ راست اثر ڈال سکتا ہے۔