🇺🇸 امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو 5 لاکھ سے زائد تارکین وطن کی قانونی حیثیت منسوخ کرنے کی اجازت دے دی
واشنگٹن : امریکی سپریم کورٹ نے اہم فیصلے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ان ہزاروں تارکینِ وطن کی عارضی قانونی حیثیت ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے، جو امیگریشن ’پیرول‘ کے تحت امریکا میں مقیم تھے۔
🏛️ بوسٹن عدالت کا فیصلہ معطل
یہ فیصلہ بوسٹن کی وفاقی عدالت کے اُس حکم کو معطل کرنے کے بعد سامنے آیا، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کو 5 لاکھ 32 ہزار تارکین وطن کی امیگریشن پیرول منسوخ کرنے سے روکا تھا۔
🌍 متاثرہ ممالک: وینزویلا، کیوبا، ہیٹی، نکاراگوا
ان تارکینِ وطن کا تعلق بالخصوص وینزویلا، کیوبا، ہیٹی اور نکاراگوا سے ہے، جنہیں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر عارضی تحفظ حاصل ہوا تھا۔
⚖️ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے مضمرات
عدالتی فیصلے کے بعد اب ٹرمپ انتظامیہ کو قانونی اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ ان تارکینِ وطن کی حیثیت منسوخ کر کے ممکنہ طور پر ملک بدری کا عمل شروع کر سکے۔
یہ فیصلہ امریکی صدارتی انتخابات کے تناظر میں امیگریشن کے حساس مسئلے کو ایک بار پھر مرکزِ بحث میں لے آیا ہے، جو ریپبلکن اور ڈیموکریٹ جماعتوں کے درمیان دیرینہ سیاسی تنازع ہے۔
