اسرائیل کی منظوری سے آنے والے امریکی جنگ بندی معاہدے کو مسترد کرتے ہیں، حماس
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کی منظوری سے پیش کی جانے والی امریکی جنگ بندی تجویز کو مسترد کرتی ہے، کیونکہ اس میں گروپ کے اہم مطالبات کو شامل نہیں کیا گیا۔ حماس کے مطابق، یہ تجویز غزہ میں جاری جنگ، قحط اور اسرائیلی مظالم کا مستقل حل پیش کرنے میں ناکام ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، امریکی انتظامیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل نے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی منصوبے پر دستخط کر دیے ہیں، اور اب یہ مسودہ حماس کو بھی پیش کر دیا گیا ہے۔
معاہدے کی تفصیلات
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس تجویز میں:
-
60 دن کی جنگ بندی
-
10 زندہ یرغمالیوں اور 18 لاشوں کی اسرائیل کو حوالگی
-
اس کے بدلے فلسطینی قیدیوں کی رہائی
-
غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی
شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے ایک بریفنگ میں کہا:
"ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیل نے جنگ بندی منصوبے پر دستخط کیے ہیں، اور تجویز حماس کو ارسال کر دی گئی ہے۔ ہم امید رکھتے ہیں کہ غزہ میں جلد جنگ بندی ممکن ہو سکے گی تاکہ تمام یرغمالیوں کو بحفاظت واپس لایا جا سکے۔”
تاہم جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا حماس نے یہ تجویز قبول کی ہے؟ تو ان کا جواب تھا:
"میری معلومات کے مطابق، نہیں۔”
حماس کا مؤقف: معاہدہ غیر متوازن اور ناقابلِ قبول
حماس کے سینئر رہنما سمیع ابو زہری نے ‘رائٹرز’ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ:
"یہ تجویز صرف اسرائیلی مؤقف کی نمائندگی کرتی ہے، اس میں نہ تو جنگ کے خاتمے کی کوئی ضمانت ہے، نہ ہی اسرائیلی افواج کے انخلا کی شق شامل ہے، اور نہ ہی غزہ میں امداد کی مؤثر فراہمی کی ضمانت دی گئی ہے۔”
حماس کے قریبی ذرائع کے مطابق، یہ نیا مسودہ پہلے پیش کیے گئے مسودے سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔ پہلے مسودے میں مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی شق بھی شامل تھی، جو موجودہ تجویز میں نہیں ہے۔
سیاسی بیورو کا مؤقف: "یہ قحط اور قتل کا تسلسل ہے”
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے ‘اے ایف پی’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
"یہ مسودہ دراصل جنگ، قتل و قحط کے جاری رہنے کا نیا فارمولا ہے۔ یہ ہمارے عوام کے کسی بھی مطالبے کو پورا نہیں کرتا، خاص طور پر جنگ بندی، امداد کی بحالی، اور اسرائیلی انخلا جیسے بنیادی نکات کو۔”
غیر یقینی صورتحال برقرار
حماس کا کہنا ہے کہ وہ تاحال اس نئی تجویز کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے، تاہم ابتدائی ردِعمل منفی رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فریقین کے درمیان اتفاق نہ ہوا تو جنگ بندی کا عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے غزہ میں جاری اسرائیلی بمباری اور فوجی کارروائی نے ہزاروں فلسطینیوں کی جان لی ہے، جب کہ حماس اور دیگر گروہوں کے قبضے میں کئی اسرائیلی یرغمالی بھی موجود ہیں، جن کی بازیابی امریکی کوششوں کا محور ہے۔
