کرسٹین فیئر ایک بار پھر پاکستان کے حق میں بول اٹھیں، بھارتی بیانیے کو آڑے ہاتھوں لے لیا

اہم خبریںپاکستانتازہ تریندنیا

واشنگٹن/نیویارک: معروف امریکی ماہرِ سکیورٹی اور دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر کرسٹین فیئر نے ایک بار پھر پاکستان سے متعلق اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے بھارتی مؤقف کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ جیسے بھارت ہر کشمیر واقعے کے پیچھے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے، بالکل ویسے ہی پاکستانی عوام کو یقین ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی بیشتر دہشت گردی کے پیچھے بھارت ملوث ہے۔

ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں کرسٹین فیئر نے کہا کہ بھارتی حلقے خاص طور پر اس بات پر بات کرنے سے کتراتے ہیں کہ بعض اوقات بھارت بھی حدود سے تجاوز کرتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارتی ناظرین سننا ہی نہیں چاہتے کہ ان کی ریاست بعض مواقع پر جارحانہ رویہ اختیار کرتی ہے۔

مزید گفتگو میں انہوں نے بھارتی اسکالر اویناش پالیوال کی کتاب My Enemy’s Enemy کا حوالہ دیا، جس میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت سے متعلق شواہد اور نکات پیش کیے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ کرسٹین فیئر نے بھارتی دعووں کو چیلنج کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ پاکستانی فضائی حدود میں طیارے مار گرانے کے بھارتی دعوے کو "بکواس” قرار دے چکی ہیں۔ ایک بھارتی صحافی کے سوال پر کہ بھارتی فضائیہ نے کئی پاکستانی طیارے مار گرائے جن کی تعداد بتانے سے وہ گریزاں ہیں، کرسٹین فیئر نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا: "یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے، جس کی نہ کوئی تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی ثبوت فراہم کیا گیا۔”

کرسٹین فیئر کی پاکستان سے متعلق حقیقت پسندانہ رائے اور بھارت پر تنقیدی نقطہ نظر اکثر بھارتی حلقوں کو ناگوار گزرتا ہے، تاہم بین الاقوامی سطح پر ان کے تجزیے کو سنجیدگی سے سنا اور پڑھا جاتا ہے۔