حماس نے غزہ میں یرغمال امریکی شہری کی رہائی پر رضامندی ظاہر کر دی
فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں زیر حراست امریکی قیدی ایڈن الیگزینڈر کی رہائی پر آمادہ ہے۔ یہ پیش رفت حماس اور امریکا کے درمیان حالیہ جنگ بندی مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایڈن الیگزینڈر ممکنہ طور پر غزہ میں قید آخری امریکی شہری ہیں، اور ان کی رہائی کے فیصلے کو ایک اہم انسانی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حماس کے سینئر رہنما ڈاکٹر خلیل الحیہ نے تصدیق کی ہے کہ ان کی تنظیم نے امریکی قیدی کی رہائی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس امدادی گزرگاہوں کو کھولنے کی بھی حمایت کرتی ہے تاکہ انسانی بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
ادھر اسرائیلی حکام نے حماس اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ رابطے اسرائیل کی سفارتی و سیکیورٹی پوزیشن پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب غزہ میں جنگ بندی اور انسانی بحران کے خاتمے کے لیے عالمی سطح پر کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔
