بلوچستان اگلے 10 سے 12 سال میں پاکستان کا سب سے امیر صوبہ ہوگا: احسن اقبال
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ آنے والے 10 سے 12 سال میں بلوچستان پاکستان کا سب سے امیر صوبہ بن جائے گا، کیونکہ یہاں موجود قدرتی وسائل ملک کی اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کا دورہ
منگل کے روز احسن اقبال نے پاکستان ہائی کمیشن لندن کا دورہ کیا، جہاں انہیں ہائی کمیشن کے پیشہ ورانہ امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اربوں ڈالرز کے قدرتی ذخائر موجود ہیں، جن سے ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
بلوچستان میں تانبے کے ذخائر اور سرمایہ کاری کے مواقع
احسن اقبال نے کہا کہ بلوچستان میں تانبے کے وسیع ذخائر کی دریافت اور نکالنے کے عمل پر تیزی سے کام جاری ہے، جس میں مختلف ممالک سرمایہ کاری میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
- چینی کمپنیاں بلوچستان سے معدنی وسائل نکالنے میں دلچسپی لے رہی ہیں۔
- سعودی عرب نے بھی پاکستان کے قدرتی وسائل میں سرمایہ کاری کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
معدنیات کی مقامی سطح پر پروسیسنگ پر زور
احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت چاہتی ہے کہ بلوچستان سے نکلنے والے ذخائر خام مال کی صورت میں برآمد نہ کیے جائیں بلکہ مقامی سطح پر ہی ان کی پراسیسنگ ہو، تاکہ بلوچستان اور پاکستان کو زیادہ سے زیادہ اقتصادی فوائد حاصل ہو سکیں۔
انہوں نے کہا:
"ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کے وسائل کا فائدہ سب سے پہلے بلوچستان کو ہی پہنچے، تاکہ صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی یقینی بنائی جا سکے۔”
بلوچستان کے لیے روشن مستقبل کی امید
احسن اقبال نے اپنے بیان میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر بلوچستان کے قدرتی وسائل کو درست حکمت عملی کے تحت استعمال کیا جائے تو اگلے 10 سے 12 سال میں یہ پاکستان کا سب سے امیر صوبہ بن سکتا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلوچستان میں قدرتی وسائل کی دریافت اور ترقیاتی منصوبے زور پکڑ رہے ہیں، جو آنے والے سالوں میں پاکستان کی معیشت پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔
